’برطانیہ کے غیرعیسائی ملک ہونے کا دعویٰ غلط‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC GETTY IMAGES
Image caption کنزرویٹو جماعت کے دو اعلیٰ ارکین پارلیمان نے کہا ہے کہ برطانیہ ایک عیسائی ملک ہے اور آج کے برطانیہ کی بنیاد ’عیسائی ورثے‘پر مبنی ہے۔

برطانیہ کی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کے دو سینیئر ارکانِ پارلیمان کا کہنا ہے کہ جو لوگ برطانیہ کو ایک عیسائی ملک ماننے سے انکار کرتے ہیں وہ خود کو ’دھوکا‘ دیتے ہیں اور ’حقیقت‘ کو نظرانداز کرتے ہیں۔

اٹارنی جنرل ڈومینک گریو اور ورک اینڈ پینشن کے وزیر ایئن ڈنکن سمتھ نے برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف کو بتایا کہ حالیہ برطانیہ کی بنیاد ’عیسائی ورثے‘پر قائم ہے۔

گزشتہ ہفتے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ برطانوی اقوام کو اپنی ’عیسائی حیثیت پر زیادہ اعتماد ہونا چاہیے‘۔ لیکن عوامی نمائندوں کے ایک گروپ نے اعتراض کیا اور کہا کہ وزیراعظم کے اس بیان کے نتیجے میں ’تفرقہ‘ پیدا ہوسکتا ہے۔

کنزرویٹو کرسچیئن فیلوشپ کے سرپرست ڈومینک گریو کے مطابق دہریت اب تک برطانیہ میں زیادہ جگہ نہیں بنا پائی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’برطانوی معاشرے کی کافی اخلاقیات عیسائیت کی بنیاد پر بنی ہیں اور 1500 سال سے جاری عیسائی اضافت کا نتیجہ ہیں‘۔

گریو نے کچھ مذہبی گروہوں کے حوالے سے کہا کہ ان گروپوں کی ’خود اعتمادی‘ میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث کچھ لوگ جن کا ’معتدل مذاہب‘ سے تعلق ہے ’پریشان‘ ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں لگتا کہ ’مذہبی بنیاد پرستی میں اضافے سے عام لوگوں کے مذہبی رحجان میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔‘

ایئن ڈنکن سمتھ کے مطابق ایسے دعوے جو برطانیہ کو عیسائی ملک ماننے سے انکار کرتے ہیں وہ مضحکہ خیز ہیں اور ملک کی ’تاریخی اور آئینی حقائق‘ کو نظر انداز کرتے ہیں۔

ڈنکن سمتھ نے مزید کہا ’ہماری عیسائی وراثت کی قدرتی رواداری اور سب کو لے کر چلنے کی خصلت کی وجہ سے باقی مذہبی یا غیر مذہبی آوازوں کو بولنے اور قابل احترام ہونے کی آزادی ملی ہے۔‘

ڈیوڈ کیمرون کے بیان کے جواب میں ماہرینِ تعلیم، مصنفین اور فلسفیوں سمیت ایک گروپ نے ٹیلیگراف کو ایک کھلا خط لکھا تھا کہ ’بار بار کیے والے جانے سروے، رائے عامہ کے جائزوں اور تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم میں سے بیشتر اپنے عقائد یا مذہبی تشخص میں عیسائی نہیں ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کو ایک مذہبی ملک قرار دینے سے سوسائٹی میں ’تفرقہ اور اختلاف‘ پیدا ہو سکتا ہے۔

2011 کی مردم شماری کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں 59 فیصد لوگوں نے عیسائی ہونا تسلیم کیا جو ایک دہائی قبل 72 فیصد تھے۔

سکاٹ لینڈ میں 2011 ہی میں یہ اعداد و شمار 54 فیصد تھے جو ایک دہائی قبل کی تعداد 65 فیصد سے کم ہوئے جبکہ شمالی آئرلینڈ میں یہ تعداد معمولی کمی کے بعد 83 فیصد رہی۔

اسی بارے میں