متنازعہ جزائر: امریکہ جاپان کی مدد کرنے کا ’پابند‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر بدھ کو جاپان پہنچے تھے جس کے بعد وہ جنوبی کوریا، ملائیشیا اور فلپائن کا بھی دورہ کریں گے

امریکی صدر باراک اوباما نے جاپان کے وزیرِاعظم شنزو ابے کے ساتھ مذاکرات کے بعد جاپان اور چین کے درمیان سینکاکو جزائر کے تنازعے کے حوالے سے جاپان کو اپنی حمایت کا دوبارہ یقین دلایا ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے جو ایشیا کے چار ملکی دورے پر ہیں اس تنازعے پر بڑھتی ہوئی تناؤ پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تنازعے کا پر امن حل چاہتے ہیں۔

اوباما نے تصدیق کی کہ یہ جزیرے ایک ایسے دفاعی معاہدے کے تحت آتے ہیں جس کے تحت اگر ان پر حملہ کیا گیا تو امریکہ کو جاپان کی مدد کو آنا ہو گا۔

دونوں رہنماؤں نے ایک بڑے تجارتی معاہدے کے علاوہ جنوبی کوریا کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔

امریکی صدر بدھ کو جاپان پہنچے تھے جس کے بعد وہ جنوبی کوریا، ملائیشیا اور فلپائن کا بھی دورہ کریں گے۔

باراک اوباما بیجنگ نہیں جائیں گے تاہم علاقائی رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں میں امریکہ چین تعلقات پیش پیش رہیں گے۔

امریکی صدر کا ایشیا کے چار ممالک کا یہ دورہ 29 اپریل کو ختم ہو گا۔

باراک اوباما نے سات ماہ قبل اس خطے کا دورہ امریکی حکومت کے ’شٹ ڈاؤن‘ کی وجہ سے منسوخ کر دیا تھا۔

امریکی صدر نے جاپانی وزیرِاعظم کے ساتھ بدھ کو غیر رسمی عشائیے پر ملاقات کی تھی۔

اس کے بعد دونوں رہنماؤں نے جمعرات کی صبح مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی۔

باراک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ جاپان سکیورٹی معاہدے کی پانچویں شق میں جاپان کے زیرِ انتظام تمام علاقے بشمول سینکاکو جزائر شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی نہیں بات نہیں ہے۔

خیال رہے کہ جاپان میں ان جزیروں کو سینکاکو جب کہ چین میں دیایو کہا جاتا ہے۔

جاپان سینکاکو جزائر کو کنٹرول کرتا ہے تاہم حالیہ مہینوں میں چین نے اس پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے اور وہ اس علاقے کے آس پاس اپنے فضائی بحری جہاز اڑاتا اور چلاتا رہا ہے جس کے بارے میں جاپان کا کہنا ہے کہ یہ اس کی فضائی اور سمندری حدود ہیں۔

دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بدھ کو ایک بیان میں امریکی موقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ جاپان خود ساختہ اتحاد سرد جنگ کے دوران دوطرفہ سمجھوتہ ہے اور اس سے چین کی خود مختاری پر کسی بھی قسم کا حرف نہیں آنا چاہیے۔

اسی بارے میں