سینٹ جارج فلسطینوں کے’ولی‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’سینٹ جارج وہ عظیم شہید تھے جنھوں نے مسیحی مذہب اور اس کی سچی اقدار کا دفاع کیا‘

اس ہفتے انگلینڈ کے مسیحی اپنے سب سے بڑے ولی ’سینٹ جارج‘ کی یاد میں تقریبات کا اہتمام کر رہے تو فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد بھی سینٹ جارج کی ہی یاد منانے کی تیاری میں مصروف ہے۔

غربِ اردن کے گاؤں الخضر کے چرچ کے مینار پر ایک دیکھا بھالا پرچم لہرا رہا ہے۔ سفید پرچم پر سرخ رنگ کی صلیب مسیحوں کے لیے کوئی نیا نشان نہیں بلکہ مسیحی یہ نشان صلیبی جنگجوں کے دور میں بھی استعمال کر رہے تھے۔

سفید پس منظر پر سرخ صلیب کا نشان نہ صرف انگلینڈ کے قومی پرچم پر دیکھا جا سکتا ہے بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک اور شہروں نے بھی اپنے قومی اور علاقائی پرچموں پر اسی علامت کو استعمال کیا ہے۔

لیکن ان ممالک کے برعکس فلسطینی عیسائیوں کے لیے سینٹ جارج کی علامت کی اہمیت مختلف ہے اور یہاں کے لوگ دور قدیم کے اس مسیحی شہید کو اپنا مقامی ہیرو سمجھتے ہیں۔وہ مقامی ہیرو جس نے اس مقدس سرزمین میں اپنے ہم مذہب عیسائیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی۔

یونانی قدامت پسند کلیسا کے روحانی پیشوا عطااللہ حنہ کہتے ہیں: ’ہمارا ایمان ہے کہ سینٹ جارج وہ عظیم شہید تھے جنھوں نے مسیحی مذہب اور اس کی سچی اقدار کا دفاع کیا۔‘

’اپنے ایمان کے لیے قربانیاں دے کر سینٹ جارج نے برائی کو شکست دی۔ یہاں کے لوگوں کے لیے سینٹ جارج سب سے بڑے ولی ہیں۔ چونکہ سینٹ جارج پیدا بھی یہیں ہوئے تھے اس لیے ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کبھی نہ فراموش کریں اور نہ ہی اس مقدس سرزمین کو فراموش کریں۔‘

سینٹ جارج دراصل تیسری صدی عسیوی میں شہنشاہ ڈائوکلیٹن کے دور میں رومی فوج میں سپاہی کی حیثیت میں ملازم تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی زندگی کا کچھ عرصہ انھوں نے بیت اللحم کے قریبی گاؤں الخضر میں گزارہ جہاں وہ اپنی والدہ کے گھرانے کی زمین پر رہتے تھے۔

اگرچہ عموماً سینٹ جارج کے والد کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق موجودہ ترکی کے علاقے کپادوثیا سے تھا تاہم سینٹ جارج کی والدہ فلسطینی تھیں اور ان کا تعلق لِدًا (جسے آجکل لوڈ کے نام سے جانا جاتا ہے) سے تھا جو اسرائیل میں ہے۔

مقامی مسیحی کہتے کہ ان کے دلوں میں سینٹ جارج کو خاص مقام حاصل ہے کیونکہ انھوں نے اپنا تمام مال و اسباب خدا کی راہ میں لٹا کر راہ حق میں قید وبند کی مشکلات کا سامنا کیا اور پھر انھیں قید کے دوران شہید کر دیا گیا۔

مغربی کنارے اور اسرائیل میں الخدر اور لوڈ کے قصبے کے علاوہ بھی کئی ایک چرچ ایسے ہی جو شہید سینٹ جارج کے نام سے منسوب ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بدی کے اژدھے کے خلاف سینٹ جارج کی لڑائی کے مناظر پینٹنگز میں دکھائے جاتے ہیں

مغربی دنیا میں سینٹ جارج کا دن 23 اپریل کو منایا جاتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی کلیسا کے کیلینڈر کو مانتے ہیں جس کے حساب سے سینٹ جارج کی شہادت کی تاریخ چھ مئی بنتی ہے۔ چھ مئی کو الخضر کے چرچ میں خصوصی دعائیہ مجلس ہوتی ہے جس میں عبادت کرنے والے بیت اللحم سمیت کئی شہروں سے یہاں جمع ہوتے ہیں اور سینٹ جارج کے یاد میں شمعیں روشن کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔ اس موقع پر زائرین میں کھانا تقسیم کیا جاتا ہے جس میں وہ مخصوص روٹی بھی بنائی جاتی ہے جس پر سینٹ جارج کو برائی کے اژدھے سے تلوار سے لڑتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔

برائی کے اژدھے کے خلاف سینٹ جارج کی لڑائی کے مناظر نہ صرف چرچ میں لگی ہوئی پینٹنگز میں دیکھے جا سکتے ہیں بلکہ زیادہ تر فلسطینی عیسائیوں کےگھروں میں بھی ایسی تصاویر دکھائی دیتی ہیں۔

مقامی مجسمہ ساز اکرم عنستاس کا کہنا ہے کہ ’ سینٹ جارج یہاں کے مقامی ولی ہیں جن کے ساتھ بہت سے معجزے منسلک ہیں۔ ہم ان کی بہت عزت کرتے ہیں۔ مجمسوں اور پینٹنگز میں سینٹ جارج کو ایک ایسے بہادر سپاہی کے روپ میں دکھایا جاتا ہے جو امن اور وقار کا پیکر ہے اور وہ ہاتھ میں تلوار لیے گھوڑے پر سوار ہے اور برائی کے اژدھے کے خلاف بر سر پیکار ہے۔ ان مجمسوں کے نیچے اکثر ہم عربی میں یہ دعا کندہ کرتے ہیں: اے خدا ہمارے گھر پر رحمت فرما۔‘

اکرم اب تک سینٹ جارج کے ہزارہا مجسمے بنا چکے ہیں جو بین الاقوامی سیاح اور مقامی لوگ خریدتے ہیں اپنے گھروں میں لگاتے ہیں۔

’مجھے سینٹ جارج بہت اچھے لگتے ہیں۔ وہ میرے بہت اچھے دوست ہیں اور میں نے انہیں زندگی میں کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ وہ ایک فرشتے کی طرح میری حفاظت کرتے ہیں۔‘

سینٹ جارج اور ان کی دلیری، حوصلے اور عظمت کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے فلسطینی عیسائیوں میں نام ’جارج‘ بہت مقبول ہے۔ سینٹ جارج سے نسبت کے حوالے سے لوگ ’جارج‘ کے علاوہ ’جریس‘ اور ’خضر‘ کے الفاظ بھی اپنے بچوں کے ناموں میں شامل کرتے ہیں۔ خضر کے معنی ’سبز یا ہرا‘ کے ہیں۔

میں بیت اللحم میں ایک کیفے میں گئی جس کا نام ’ابو جارج‘ (جارج کا والد) تھا۔ اس کیفے کا مالک ’سلغی‘ نامی گھرانہ ہے۔ میں جب کیفے میں بیٹھی ہوئی تھی تو مجھے بتایا گیا کہ وہاں بیٹھے ہوئے تمام مردوں کا نام جارج تھا۔

جارج الیاس صبا نے مجھے بتایا کہ ’آج کل ہمارے گھر میں کم از دس افراد ایسے جن کے نام ’جارج‘ ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے سالوں میں ہمارے گھرانے میں ایک سو جارج ہوں۔

’یہاں بیت اللحم میں ہمارا گھرانہ اکیلا نہیں۔ یہاں ہم سب کا ایمان ہے کہ ہمیں جب بھی ضرورت پڑے گی سینٹ جارج ہماری مدد کو آئیں گے۔ اگر آپ کا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے تو سب سے پہلے آپ کے منہ سے ’یا خضر‘ ہی نکلتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہم سینٹ جارج کو مدد کے لیے پکارتے ہیں۔

اس سال کے یومِ سینٹ جارج کی تیاری میں کیفے میں بیٹھے ہوئے جارج الیاس صبا کے گھرانے کی دو نسلوں نے مل کر ایک دعائیہ گیت بھی گایا جس کا پہلا شعر کچھ یوں تھا۔

’اے ولی جارج الاخضر سے ہماری دعا سن لے ۔۔۔ ہاتھوں میں شمعیں لیے ہم مسیحوں کی دعا سن لے۔‘

فلسطینیوں میں کئی ایک روایات ایسی ہیں جن کا ماخذ سینٹ جارج کو سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً کئی عقیدت مند گریک آرتھوڈوکس چرچ کے پادریوں سے قوت گویائی سے محروم بچوں کے منہ میں ایک چابی رکھواتے ہیں تاکہ ان کی زبان پر لگا تالا کھل جائے اور بچہ بولنا شروع کر دے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کرم اب تک سینٹ جارج کے ہزارہا مجسمے بنا چکے ہیں جو لوگ خریدتے ہیں اپنے گھروں میں لگاتے ہیں

اسی طرح عقیدت مند سینٹ جارج کے نام لکھے ہوئے خط چرچ میں سینٹ جارج کی شبیہ کے نیچے چھوڑ جاتے ہیں کیونکہ ان عقیدہ ہے کہ سینٹ جارج ان کے خط پڑھ کر ان کے مسائل حل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

عسائیوں کے علاوہ کئی فلسطینی مسلمان بھی سینٹ جارج کی کرامات کو مانتے ہیں، خاص طور پر الخضر اور اس کے گرد ونواح میں رہنے والے مسلمان سینٹ جارج سے عقیدت رکھتے ہیں۔

مقامی چرچ کے فادر عنانیس کا کہنا ہے کہ ’جب یہ چرچ تعمیر ہو رہا تھا اس وقت اس کے قریب کے علاقوں میں زیادہ تر آبادی عیسائی تھی۔ مجھے معلوم نہیں کہ کس دور میں مقامی لوگ مسملمان ہوئے تاہم عثمانیہ دور میں مسلمانوں نے اس چرچ کی حفاظت کی اور وہ اس کے قریب رہے۔‘

یہاں آنے والے عقیدت مند نہ صرف سینٹ جارج سے اپنی دعاؤں کی تکمیل کی استدعا کرتے ہیں بلکہ غریبوں میں مفت کھانہ تقسیم کرنے کے لیے وہ چرچ کو بھیڑیں بھی دیتے ہیں۔

ابو جارج کیفے کے قریب میں ایک عمر رسیدہ مسلمان خاتون سے بھی ملی جنھوں نے روایتی کڑھائی والا لباس پہنا تھا اور حجاب بھی لیا ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب الخضر کو مانتے ہیں، حتیٰ کہ میرے شوہر بھی انہیں مانتے ہیں۔ ہم نے بھی منت مانی ہے کہ ہم چرچ میں ان کے نام کی شمع جلائیں گے۔‘

کئی مسلمان محققین کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ کے ایک ساتھی کا ذکر قران میں ملتا ہے جو ’حضرت خضر‘ کی نشانیاں بتاتے ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ ان نشانیوں میں جس شخص کی جانب اشارہ کیا گیا ہے وہ سینٹ جارج ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’اے ولی جارج الخضر سے ہماری دعا سن لے‘

لیکن سینٹ جارج کو صرف ’خضر‘ کی نسبت سے نہیں جانا جاتا بلکہ سترہ صدیوں گذرنے کے بعد ان کو کئی دیگر مذہبی رہنماؤں سے نسبت دی جاتی ہے جن میں سے کچھ تاریخی ہیں جبکہ کئی اسی ہیں جن کا ذکر صرف قصے کہانیوں میں ملتا ہے۔

مثلاً یہ بات کہ سینٹ جارج نے ایک مرتبہ ایک اژدھے کو اس وقت اپنی تلوار سے مار دیا جب وہ ایک دوشیزہ کو کھانے جا رہا تھا، بعد کے سالوں کی پیداوار لگتی ہے اس غالب امکان یہی ہے کہ قرون وسطیٰ میں اس کہانی کو سینٹ جارج کے ساتھ منسلک کر دیا گیا۔

اسی طرح کئی دوسری کرامات بھری حکایتیں ہیں جو سینٹ جارج کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ سینٹ جارج کو صرف انگلینڈ میں ولی نہیں مانا جاتا بلکہ ان سے عقدیدت رکھنے والے لوگوں میں فلسطینیوں سمیت کئی اقوام کے لوگ شامل ہیں۔

اسی بارے میں