یوکرینی فوج کی مشرقی علاقوں کی طرف پیش قدمی، روس کی تنبیہ

Image caption شہریوں کے خلاف فوج کا استعمال بڑا جرم ہے: پوتن

یوکرین میں حکومت کی جانب سے ’انسدادِ دہشت گردی‘ آپریشن کے دوبارہ آغاز کے اعلان کے بعد یوکرینی فوج کے کمانڈوز نے ملک کے مشرقی علاقے میں علیحدگی پسندوں کے گڑھ سلووینسک کی جانب پیش قدمی کی ہے۔

کمانڈوز نے، جنھیں بکتر بند گاڑیوں کی مدد حاصل ہے، شہر کے قرب و جوار میں کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹا دی ہیں اور اس دوران کچھ علیحدگی پسندوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے یوکرین کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے فوج کو عوام کے خلاف استعمال کیا تو اس کے ’نتائج‘ بھگتنا پڑیں گے۔

سلووینسک میں آپریشن کی خبریں سامنے آنے کے بعد روسی ٹی وی پر ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’اگر کیئف کی حکومت نے ملک کے اندر شہریوں کے خلاف فوج کا استعمال شروع کر دیا ہے تو یہ بلاشبہ بڑا جرم ہے۔‘

یوکرین کی فوج نے سلووینسک کے علاوہ ایک اور مشرقی قصبے میریوپول میں بھی مرکزی ہال پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

یوکرینی حکومت کو اس وقت ملک کے مشرقی حصے میں مسلح بغاوت کا سامنا ہے اور یوکرین اور مغربی ممالک کا خیال ہے کہ روس ان مزاحمت کاروں کو کنٹرول کر رہا ہے۔ تاہم روس اس الزام سے انکار کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس جنیوا میں ہونے والے معاہدے کی کھلے عام خلاف ورزی کر رہا ہے: اوباما

اس وقت مشرقی یوکرین میں دونتسک اور لوہانسک سمیت کم از کم نو شہروں کے بیشتر علاقوں پر ان روس نواز گروہوں کا قبضہ ہے۔

یوکرین کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ اب تک کی کارروائی میں پانچ علیحدگی پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سلووینسک کے میئر کے ایک مشیر کے مطابق اس آپریشن میں دو ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روزن برگ کا کہنا ہے کہ سلووینسک کے مرکز میں حالات معمول کے مطابق دکھائی دیتے ہیں اور وہاں روس نواز مسلح گروہوں کے ارکان گشت کر رہے ہیں جبکہ عوامی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یوکرین کے بحران کے حل کے لیے گذشتہ ہفتے جنیوا میں ہونے والے معاہدے کی کھلے عام خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اس معاہدے کے تحت یوکرین میں موجود غیر قانونی مسلح گروہوں کو اپنے زیرِ قبضہ عمارتیں چھوڑ کر واپس چلے جانا تھا۔

جاپان میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ روس خطے میں مزاحمت کاروں کی کارروائیاں رکوانے میں ناکام رہا ہے اور اسے مزید پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

روس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر یوکرین میں اس کے مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔

اسی بارے میں