برطانوی پولیس کی مسلمان خواتین سے اپیل: ’اپنے مردوں کو شام جانے سے روکیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں جاری جنگ میں اب تک تقریبا 20 برطانوی شہری ہلاک ہو چکے ہیں

برطانیہ میں انسداد دہشت گردی پولیس کے سربراہوں نے پہلی بار برطانوی مسلم خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے مردوں کو شام کی لڑائی میں ممکنہ طور پر شامل ہونے سے باز رکھنے کی کوشش کریں۔

خواتین کی دخل اندازی کی یہ قومی مہم شام میں برطانوی شہریوں کی ہلاکتوں کے سلسلے کے بعد لانچ کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برطانیہ سے بہت سے مسلمان بشارالاسد حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے شام گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق لندن، برمنگھم، مانچسٹر میں بھی پولیس پروگرام کا انعقاد ہوگا جس میں مزید ہلاکتوں کو روکنے کے لیے خواتین سے مدد طلب کی جائے گی۔

پولیس نے کہا ہے کہ شامی حکومت کے خلاف لڑنے کا ارادہ رکھنہ والے 40 افراد کو رواں سال گرفتار کیا گیا ہے۔

سکیورٹی سربراہوں کا خیال ہے کہ برطانیہ سے سینکڑوں افراد شام میں لڑنے کے لیے گئے ہیں جن میں سے بعض لوٹ آئے ہیں۔

خبروں کے مطابق شام میں جاری جنگ میں اب تک تقریبا 20 برطانوی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حال میں مرنے والوں میں ایک شخص کرالی شامل ہے جو کہ ایک تین سالہ بچے کا والد تھا

حال میں مرنے والوں میں ایک شخص کرالی شامل ہے جو کہ ایک تین سالہ بچے کا والد تھا۔ شام کی جنگ میں ہلاک ہونے والا وہ پہلا برطانوی خودکش بمبار بھی بنا۔ اس کے علاوہ برائٹن کا ایک رہائشی بھی شامل ہے۔

شام کے ساتھ مبینہ تعلقات کے لیے گرفتار کیے جانے والے افراد میں حالیہ دنوں زبردست اضافہ ہوا ہے اور اس سال کے پہلے تین مہینوں میں گرفتار ہونے والوں کی تعداد گذشتہ پورے سال کے دوران گرفتار ہونے والوں سے دو گنی ہے۔

جمعرات کو لندن، مانچسٹر اور برمنگھم میں انسداد دہشت گردی کی پولیس، شدت پسندی کی روک تھام کرنے والے اہلکار اور مسلم برادری کی خواتین گروہ کے پروگرم منعقد ہوں گے جن میں لوگوں سے اپیل کی جائے گی کہ شام جانے سے لوگوں کو باز رکھا جائے۔

انسداد دہشت گردی کی قومی کوارڈینیٹر اور نائب اسسٹنٹ کمشنر ہیلن بال نے کہا وہ قومی پیمانے پر خواتین سے گفتگو کرنا چاہتی ہیں کہ وہ نوجوانوں کو شام جانے سے باز رکھیں۔

ہیلن بال نے کہا: ’ہمیں ان نوجوانوں کی بہت فکر ہے جو جنگ میں شامل ہونے کے لیے یا تو شام چلے گئے ہیں یا پھر وہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عبداللہ نامی اس نوجوان کی گذشتہ ہفتے شام کی جنگ میں موت کی تصدیق ہوئي ہے

انھوں نے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو اور بطور خاص خواتین کو زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے غزیزوں کو وہاں جانے سے روکیں۔

’ہم پولیس میں ان کا اعتماد بڑھانا چاہتے ہیں اور ان کو اپنا شریک بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ انھیں روکنے میں ہماری مدد کریں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ لوگوں کو مجرم بنانے کے لیے نہیں بلکہ سانحوں کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ ہم ان لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جو شام کے مسئلے میں تعاون کرنا چاہتے ہیں وہ کس طرح محفوظ اور قانونی طریقے سے ان کی مدد کر سکتے ہیں۔‘

اس نئی حکمت عملی کے تحت پرچوں پر درج اعلانات تقسیم کیے جائیں گے جن میں شام جانے والوں کے لیے سخت نتائج کی باتیں درج ہوں گی۔ یہ لیف لٹ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر تقسیم کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں