کوریا:غرقاب کشتی کے ایک کیبن سے 48 لاشیں برآمد

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ابھی تک اس غرقاب کشتی سے 183 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں لیکن درجنوں لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں۔

جنوبی کوریا میں غرقاب ہونے والی مسافر بردار کشتی میں لاشوں کی تلاش کرنے والے غوطہ خوروں نے کشتی کے ایک ہی کمرے سے 48 لاشیں برآمد کی ہیں۔

جنوبی کوریا کی بحریہ کے افسران کا کہنا ہے یہ لوگ ایک چھوٹے سے کمرے میں پائے گئے اور سبھی نے لائف جیکٹیں پہن رکھی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کمرہ 38 لوگوں کے لیے تھا۔

ابھی تک اس غرقاب کشتی سے 183 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں لیکن درجنوں لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں۔

لاشیں نکالنے کے آپریشن کے سربراہ نے جمعہ کو کہا کہ انہیں ابھی کوئی اندازہ نہیں ہے کھ پوری کشتی کی تلاشی لینے میں کتنا وقت لگے گا۔

اس کشتی پر 476 افراد سوار تھے اور جب کشتی ٹیڑھی ہونے کے بعد غرقاب ہوئی تو 174 مسافروں کو بچا لیا گیا تھا۔

پریشانی کے عالم میں اس کشتی سے دو گھنٹے تک سگنل بھیجے گئے تھے۔

ہلاک ہونے والے زیادہ تر جنوبی سیول کے ایک سکول کے طلبا اور اساتذہ تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جب کشتی ٹیڑھی ہونے کے بعد غرقاب ہوئی تو 174 مسافروں کو بچا لیا گیا تھا۔

متاثرین کے رشتے داروں نے امدادی کاموں کی ’دھیمی رفتار‘ پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

جنوبی جزیرہ جندو میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے بحریہ کے کپتتان کِم جِن ہوانگ نے بتایا کہ اس کام میں غوطہ خوروں کو دشواریوں کا سامنا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ غوطہ خوروں کے ایک گروپ کو ایک چھوٹے سے کمرے میں 48 لاشیں ملی ہیں ایسا لگتا ہے کہ جب کشتی ٹیڑھی ہونی شروع ہوئی تو بہت سے لوگ بھاگ کر اس کمرے میں جمع ہو گئے تھے۔

بحریہ کے کپتان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اعصاب شکن کام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لاشوں کو نکال کر لانے سے کہیں زیادہ مشکل کام انہیں تلاش کرنا ہے کیونکہ غوطہ خور ایک وقت میں دس منٹ سے زیادہ کشتی کے اندر نہیں رہ سکتے۔

ایک غوطہ خور کا کہنا ہے کہ جب آپکے ارد گرد ہر چیز تیر رہی ہو تو یہ اندازہ لگانا بھی مشکل ہوتا ہے کہ آپ کہاں ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کشتی کے 111 کمروں میں سے ابھی تک 35 کمروں کی ہی تلاشی لی جا سکی ہے۔

جمعہ کو سیول کے اپنے دورے کے دوران امریکی صدر براک اوباما نے اس حادثے پر جنوبی کوریا کے ساتھ اظہار تعزیت کیا۔

اسی بارے میں