یوکرین بحران: روس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جی 7 تنظیم میں شامل ممالک نے روس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کر لیا ہے

یوکرین کے بحران پر ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم جی 7 نے سنیچر کو روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

جی 7 تنظیم کے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’روس نے جنیوا معاہدے کے تحت کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔‘

تنظیم نے کہا کہ اس لیے ’ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ہم روس پر اضافی پابندیاں تیزی کے ساتھ عائد کریں گے۔‘

وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ پابندی سوموار سے عائد کی جا سکتی ہیں۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کس قسم کی مزید پابندیاں عائد کرنے والے ہیں۔ روس کے خلاف ابھی جو پابندیاں عائد ہیں ان میں اثاثے کے منجمد کرنے اور وہاں کے حکام کے دوروں پر پابندیاں شامل ہیں جس سے متعدد روسی حکام متاثر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کی وزارت دفاع پنٹاگون کے ترجمان نے روس سے ’کشیدگی کم کرنے‘ کے لیے کہا ہے۔

یہ بیان سات ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم جی 7 کے بیان کے بعد آيا ہے جس میں انھوں یوکرین معاملے پر روس پر پابندیاں لگانے کی بات کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سلووینسک میں یرغمال بنائے گئے مصبرین کی رہائی کے لیے باغیوں سے مذاکرات ہو رہے ہیں

ادھر امریکہ کے مطابق روسی جنگی ہوائی جہازوں نے گذشتہ 24 گھنٹوں میں متعدد بار یوکرین کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔

پینٹا گون کے ترجمان نے جمعے کو دیر گئے بی بی سی کو بتایا تھا کے سرحدی خلاف ورزی کے یہ واقعات روسی سرحدی علاقوں کے قریب پیش آئے۔ تاہم انھوں نے اس بارے مزید تفیصلات نھیں بتائیں۔

مشرقی یوکرین میں یورپی مبصرین کی ایک بس کو بھی روس کے حامی علیحدگی پسندوں نے یرغمال بنایا ہے جن کی رہائی کے لیے سلووینسک میں بات چیت جاری ہے۔

روس نے یوکرین سے ملحق اپنی سرحدی پر لاکھوں فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور اس دوران روس کے حامی علیحدگی پسندوں کی جانب سے مشرقی یوکرین کے درجنوں قصبوں میں سرکاری عمارات پر قبضہ کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما اور یورپی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین کے بحران کے حل کے لیے مجوزہ منصوبے پر عمل نہ کیا تو اس پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

دوسری جانب روس نے الزام عائد کیا ہے کہ مغرب پر یوکرین پر ’قبضہ‘ کرنا چاہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روس کا الزام ہے کہ مغرب پر یوکرین پر ’قبضہ‘ کرنا چاہتا ہے

پینٹاگون سے جاری ایک بیان میں کرنل سٹیون نے امریکہ کے مطالبے کو دہرایا کے ’روس حالات کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔‘

انھوں نے کہا کہ امریکہ نے روسی حکام کو بتایا ہے کہ امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل اپنے روسی ہم منصب سے بات کرنا چاہتے ہیں لیکن تاحال اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

بین کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع نے یوکرین کی سرحد کے قریب روسی سرگرمیوں کو اشعال انگیز قرار دیا۔

اس ماہ کے اوائل میں جینوا میں ہونے والی بات چیت میں روس اور یوکرین میں اتفاق ہوا تھا کہ علیحدگی پسندوں سے سرکاری عمارات کو خالی کروایا جائے گا اور انہیں غیر مسلح کیا جائے گا۔

اس معاہدے کے مطابق پر امن طریقے سے لڑائی سے الگ ہوجانے والوں کو استثنٰی حاصل ہو گا۔

لیکن تاحال روس کے حامی کارکنوں نے اپنے مطالبات سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ جبکہ جمعرات کو امریکہ وزیر خاجہ جان کیری نے بھی روس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یوکرین کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔

جمعے کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا کہ انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے بات کی ہے اور یوکرین کے علیحدگی پسندوں کو پرامن راستہ اختیار کرنے کے لیے روس کی جانب سے متوقع ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

جمعے کو یوکرین کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ مسلح علیحدگی پسندوں نے یورپ کے سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے سات مبصرین کو حراست میں لیا۔ انھوں نے بتایا تھا کہ یوکرین کی فوج کے پانچ اہلکار اور بس کا ڈرائیور بھی ان کے ہمراہ یرغمال ہیں۔

سلووینسک میں روسی کے حامی رہنماؤں سے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایک بس کو روکا گیا اور اس میں سوار افراد کی شناخت کی گئی۔

سلووینسک کے خود ساختہ میئر کا کہنا تھا کہ بس کے مسافر کے قبضےسے نقشے ملے ہیں جن میں علیحدگی پسندوں کی چوکیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ’اور یہ بات ان کے جاسوس ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔‘

یوکرین میں حالیہ دنوں میں سرکاری عمارتوں پر کنٹرول حال کرنے کے لیے فوجی کارروائی کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

ان چھاپوں کے دوران کم سے کم دو علیحدگی پسند ہلاک ہوئے ہیں اور روسی وزیرِ خارجہ نے اسے خونی جرم قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں