’اسرائیل کو مذاکرات کی پیشکش کرنے کے لیے اب بھی تیار ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption م مذاکرات کیسے شروع کر سکتے ہیں؟ ہماری جانب سے مذاکرات شروع کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں سوائے 30 قیدیوں کی رہائی کے: فلسطینی صدر محمود عباس

فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ حالیہ مشکلات کے باوجود وہ اسرائیل کو مذاکرات جاری رکھنے کی پیشکش کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو چند اہم مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے جن میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور فلسطینی علاقے میں تعمیر روکنا شامل ہیں۔

اس ہفتے اسرائیل نے مذاکرات کا عمل روک دیا تھا اور ان کا مطالبہ ہے کہ فلسطینی گروہوں کے درمیان یکجہتی کا معاہدہ منسوخ کیا جائے۔ آئندہ چند ہفتوں میں محمود عباس کی جماعت الفتح اور حماس اتحادی حکومت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

غزہ کی پٹی میں برسرِاقتدار حماس اسرائیل کے وجود کا حق مسترد کرتی ہے اور اسرائیل سمیت امریکہ، یورپی یونین اور دیگر ممالک کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے۔

غربِ اردن میں رام اللہ کے قصبے میں پی ایل او کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ ’ہم مذاکرات کیسے شروع کر سکتے ہیں؟ ہماری جانب سے مذاکرات شروع کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں سوائے 30 قیدیوں کی رہائی کے۔‘

ان کا اشارہ فلسطینی قیدیوں کے اس آخری گروہ کی جانب تھا جنہیں رہا کرنے کا فیصلہ اسرائیل نے مارچ میں منسوخ کر دیا تھا۔ اس وقت اسرائیل نے الزام لگایا تھا کہ فلسطینیوں نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے لیے مزید اقدامات نہ کرنے کے وعدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

محمود عباس نے اصرار کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کی سرحدوں پر اتفاق کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم مذاکراتی میز پر اپنا نقشہ پیش کریں گے اور اس پر تین ماہ تک بحث ہوگی۔ اس مدت کے دوران بستیوں کی تعمیر کا عمل مکمل طور پر رک جانا چاہیے۔‘

اس بیان کے بارے میں اسرائیل نے اب تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

جمعرات کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے بی بی سی کو بتایا کہ محمود عباس کو امن کوششوں کو جاری رکھنے یا پھر حماس کے ساتھ اتحاد میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’محمود عباس یا اسرائیل کے ساتھ امن قائم کر سکتے ہیں یا حماس کے ساتھ اتحاد۔ وہ دونوں نہیں قائم کر سکتے۔‘

حماس اور الفتح کے درمیان کشیدگی اس وقت سے جاری ہے جب حماس نے غزہ کی پٹی میں سنہ 2006 کے پارلیمانی انتخابات میں الفتح کو شکست دی اور سنہ 2007 میں دونوں جماعتوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

امریکی صدر اوباما نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

تاہم انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ دونوں طرف مشکل سیاسی فیصلے کرنے کی خواہش نہیں ہے اور شاید اس عمل کو کچھ دیر کے لیے روکنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں