جنوبی کوریا:غرقاب کشتی کے عملے کے خلاف مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جمعے کے روز غوطہ خوروں کو 30 افراد کی گنجائش والے کمرے میں لائف جیکٹ پہننے 48 طلبہ کی لاشیں ملی

جنوبی کوریا میں غرقاب ہونے والی مسافر بردار کشتی کے جہاز رانی سے منسلک 15 رکنی عملے کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف مجرمانہ غفلت کے الزامات ہیں۔

استغاثہ عملے کے مزید چار ارکان کے وارنٹ گرفتاری کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس سے قبل کشتی کے کپتان سمیت گیارہ ارکان کو حراست میں لیا گیا تھا۔

اس کشتی پر 476 افراد سوار تھے اور جب کشتی ٹیڑھی ہونے کے بعد غرقاب ہوئی تو 174 مسافروں کو بچا لیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد جنوبی سیول کے ایک سکول کے طلبا اور اساتذہ تھے۔

سیول نامی یہ ’فیری‘ شمال مغربی علاقے انچیون سے جنوبی سیاحتی جزیرے جیجو کی طرف جا رہی تھی کہ دو گھنٹے کے قلیل وقت میں الٹ کر سمندر کی تہہ میں غرق ہوگئی۔

اب تک 183 لاشیں نکال لی گئی ہیں تاہم سینکڑوں لاپتہ افراد کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے رکن اور وکیلِ استغاثہ یانگ جنگ جِن نے بتایا کہ جمعے کے روز مزید چار عملے کے ارکان کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ان کے مطابق عملے کے 15 ارکان کے خلاف مجرمانہ غفلت کے الزام ہیں اور انھوں نے مسافروں کی مدد نہیں کی۔

جمعے کے روز غوطہ خوروں کو 30 افراد کی گنجائش والے کمرے میں لائف جیکٹ پہننے 48 طلبہ کی لاشیں ملی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایک کمرے سے اتنے سارے لوگوں کی لاشیں ملنے کا مطلب ہے کہ ان میں سے بہت کو کشتی کے ٹیڑھا ہونے پر کمرے میں بھاگ کر جانا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ کشتی کے 111 کمروں میں سے ابھی تک 35 کمروں کی ہی تلاشی لی جا سکی ہے

کشتی میں تلاش کے عمل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ عمل کب تک مکمل ہوگا۔

متاثرین کے خاندان والے متعدد بار اس عمل کی رفتار پر خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔

بحریہ کے کپتان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اعصاب شکن کام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لاشوں کو نکال کر لانے سے کہیں زیادہ مشکل کام انہیں تلاش کرنا ہے کیونکہ غوطہ خور ایک وقت میں دس منٹ سے زیادہ کشتی کے اندر نہیں رہ سکتے۔

ایک غوطہ خور کا کہنا ہے کہ جب آپکے ارد گرد ہر چیز تیر رہی ہو تو یہ اندازہ لگانا بھی مشکل ہوتا ہے کہ آپ کہاں ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کشتی کے 111 کمروں میں سے ابھی تک 35 کمروں کی ہی تلاشی لی جا سکی ہے۔

جمعہ کو سیول کے اپنے دورے کے دوران امریکی صدر براک اوباما نے اس حادثے پر جنوبی کوریا کے ساتھ اظہار تعزیت کیا۔

اسی بارے میں