’ملائیشیا اور امریکہ شراکت کا نیا دور شروع کر رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیراعظم نجیب سے ملاقات میں بات چیت کا محور باہمی سیکیورٹی اور انٹیلیجنس کا تبادلہ شامل ہوگا

امریکی صدر براک اوباما نے ملائیشیا کے سرکاری دورے کے دوسرے روز کہا ہے کہ امریکہ اور ملائیشیا شراکت داری کا ایک نیا دور شروع کرنے کو ہیں۔

یہ بات انھوں نے ملائیشیائی بادشاہ عبد الحلیم موضم کے ساتھ ایک ریاست اعشایے کہی جس کے بعد انھوں نے وزیراعظم نجیب رزاق سے ملاقات کی۔

گذشتہ 50 سال میں کسی امریکی صدر کا اپنے دورِ حکومت میں ملائیشیا کا سرکاری دورہ کرنے کی واحد مثال ہے۔

امریکہ اور ملائیشیا کے تعلقات میں مہاتیر محمد کی حکومت کے دوران کئی سالوں کی کشیدگی کے بعد بہتری آ رہی ہے۔

صدر اوباما کا بچپن ہمسایہ ملک انڈونیشیا میں گزرا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ملائیشیا کے عقائد ایک ہی ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کچھ مالے زبان کے الفاظ بھی استعمال کیے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم سب ایک ہی بنیادی انسانی امنگوں کے مالک ہیں، کہ وقار اور امن کے ساتھ رہنا، اپنی قسمت کا حال خود تیار کرنا، روزگار ہونا اور اپنے گھر والوں کو ٹھیک سے رکھ سکنا اور سب سے زیادہ یہ کہ آئندہ نسل کو اپنے سے کچھ بہتر دے کر جائیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر اوباما سنیچر کو جاپان اور فلپائن کے دوروں کے بعد ملائیشیا پہنچے ہیں

کوالالمپور سے بی بی سی کی نامہ نگار جینیفر پاک کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کو بین البحرِ اوقیانوس تجارتی معاہدہ کرنے میں مشکل ہوگی۔ اس معاہدے کا مقصد خطے میں چینی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔

صدر اوباما سنیچر کو جاپان اور فلپائن کے دوروں کے بعد ملائیشیا پہنچے ہیں۔ اتوار کو انھوں نے ملائیشیا کی قومی مسجد کا دورہ کیا جہاں انھوں نے روایت کے مطابق جوتے اتارے اور مسجد کے اندر عبادت گاہ میں گئے۔

وزیراعظم نجیب سے ملاقات میں بات چیت کا محور باہمی سیکیورٹی اور انٹیلیجنس کا تبادلہ شامل ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے صدر اوباما کے دورے کا مقصد خطے میحں جاری علاقائی تناؤ میں چینی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔

اسی بارے میں