سعودی عرب میں میرس وائرس سے مزید ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ستمبر سنہ 2012 میں یہ وائرس پہلی بار سامنے آیا تھا

سعودی عرب میں حکام کے مطابق میرس وائرس کے نتیجے میں مزید پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ملک میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 92 تک پہنچ گئی ہے۔

سعودی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو سعودی شہری، دو فلسطینی اور ایک 40 سالہ بنگلہ دیشی خاتون شامل ہے۔

مصر میں بھی ’مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم کوروناوائرس‘ یا میرس وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کی گئی ہے۔

مصر کی وزارتِ صحت کے مطابق متاثرہ 27 سالہ مصری شہری کا تعلق دریائے نیل کے ڈیلٹا سے تھا۔

حکام کے مطابق یہ آج کل سعودی عرب میں رہائش پذیر تھا اور حال ہی میں واپس مصر پہنچا تھا۔

وائرس سے متاثرہ شخص قاہرہ کے ہپستال میں زیرعلاج ہے اور اب اس کی حالت بہتر بتائی جا رہی ہے۔

27 سالہ شخص سعودی عرب سے حال ہی میں واپس آیا تھا اور اس میں میرس وائرس پایا گیا ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ 14 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور ملک میں 18 ماہ پہلے وائرس سامنے آنے کے بعد سے 313 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

سعودی عرب میں گذشتہ ہفتے میرس وائرس کے مزید کیس سامنے آنے پر وزیر صحت کو کوئی وجہ بتائے بغیر ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

مڈل ایسٹ ریسپیریٹری سنڈروم‘ کی وبا سے سعودی عرب میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

عالمی سطح پر اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میرس بھی سارس کی طرح بڑے پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔

میرس کی زیادہ تر مریض مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ہیں جن میں اردن، قطر، سعوی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فرانس، جرمنی، اٹلی، تیونس اور برطانیہ میں بھی کچھ ایسے لوگ اس کا شکار ہوئے ہیں جنھوں نے مشرق وسطیٰ کا سفر کیا تھا۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر سے لیباٹری سے تصدیق شدہ 243 کیسز کا اس کو علم ہوا ہے۔

عالمی ادارۂ برائے صحت کا کہنا ہے کہ وہ اس صورت حال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور ابھی سفری پابندیاں عائد کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔

اسی بارے میں