شام: انتخابات یا ریفرنڈم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام میں خانہ جنگی میں اب تک تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں لیکن ملک میں صدارتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بشارالاسد کو کتنا اعتماد ہے کہ وہ شام کے سیاسی منظر پر موجود رہیں گے۔

لیکن دنیا بھر کے والدین کی طرح میرے ایک شامی دوست کو کچھ اور ہی فکر کھائے جا رہی ہے۔ اس کا مسئلہ انتخابات نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس کا بیٹا کس سکول میں جائے گا۔

جیسا کہ ہر والدین جانتے ہیں کہ یہ ایک مشکل فیصلہ ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر والدین کو یہ نہیں معلوم کہ دمشق میں رہنے والے کسی باپ کے لیے یہ فیصلہ کرنا کس قدر مشکل ہے۔

میرے دوست کا سکول کے بارے میں پہلا سوال یہ ہے کہ ’اس بات کا کیا امکان ہے کہ یہ سکول بم کا نشانہ نہیں بنے گا۔‘

میرا دوست خود سے دوسرا سوال یہ پوچھ رہا ہے کہ ’ میرے گھر اور سکول کے درمیان کتنے چیک پوائنٹس یا چوکیاں ہیں اور اگر سکول میں کچھ ہو جاتا ہے تو میں اپنے بیٹے کے پاس کتنی جلدی پہنچ سکوں گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جن علاقوں میں تباہی جاری ہے وہاں بشارالاسد کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں

میرے دوست نے تھوڑا توقف کیا اور ایک زبردست قہقہ لگایا: ’مزے کی بات یہ ہے کہ میں نے ابھی تک یہ نہیں سوچا کہ سکول کا معیار کیا ہے یا میرے بیٹے کے استاد کیسے ہوں گے۔‘

اس کا قہقہ جلد ہی اداسی میں بدل گیا اور اس نے سگریٹ کا ایک طویل کش لیا جس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اندر سے کتنا فکر مند ہے۔

چند دن بعد میں دوبارہ اپنے دوست سے ملی۔

لیکن اس بار میں نے اسے بچے کے سکول سے بڑے مسئلے میں الجھا ہوا پایا۔

’مجھے لگتا ہے کہ شام میں رُک کر میں نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے ۔‘

ہماری یہ دوسری ملاقات اسی دن ہوئی تھی جب صدر بشارالاسد نے صدارتی انتخابات کا اعلان کیا تھا، یعنی وہ دن جب بشارالاسد نے تصدیق کر دی تھی کہ وہ تیسری مرتبہ شام میں اس عہدے کے خواہاں ہیں جس کی مدت سات سال ہوتی ہے۔

میرے دوست اور دمشق میں رک جانے والے اس جیسے دوسرے ملازم پیشہ لوگوں کے لیے بشارالاسد کا انتخابات میں حصہ لینا تابوت میں آخری کیل کے مترادف تھا۔

بشارالاسد کے اس اعلان کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات کے ذریعے شام میں جاری جنگ سے نکلنے کی کوئی کوشش نہیں ہونے والی اور ملک کے اندر سے کسی سیاسی تبدیلی کی امید رکھنا اب بے سود ہوگا۔

میرے دوست کا کہنا تھا کہ ’ اسد کا پیغام بڑا واضح ہے کہ آئندہ سالوں میں بھی وہی صدر رہیں گے اور انھیں مسئلے کے کسی سیاسی حل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘

ہمارے قریب ہی بیٹھا ہوا دمشق کا ایک اور رہائشی میرے دوست کی باتیں بڑے غور سے سن رہا تھا۔

یہ جانتے ہوئے بھی کہ شام میں لوگ کُھلے بندوں سیاست پر بات نہیں کرتے مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے ڈرتے ڈرتے قریب بیٹھے ہوئے شخص سے پوچھا: ’آپ کا کیا خیال ہے۔‘

اس نے میرے سوال کا جواب ایک مختصر فقرے میں دیا: ’میں شدت پسندوں کے خلاف ہوں۔‘

شام میں حکومت کے حامی لوگ اسلام پسند باغیوں کو ’شدت پسند‘ کے نام سے ہی جانتے ہیں۔

’تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صدر کی حمایت کرتے ہیں؟‘

اس شخص نے بڑے اعتماد سے اثبات میں سر ہلایا، جیسے اس کے ذہن میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں نہ ہو۔ اس کا خیال تھا کہ وہ ایک ایسے شخص کا حامی ہے جس نے ہر حال میں انتخابات میں جیت جانا ہے۔

بظاہر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس مرتبہ صدارتی انتخابات میں لوگوں کو اپنی مرضی کا امیدوار چننے کا حق ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اکثریت انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالے گی

گذشتہ چند دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ جب شام میں صدارتی انتخابات کے بیلٹ پیپر پر ایک سے زیادہ امیدواروں کے نام درج ہوں گے۔

لیکن اس کے باوجود شام میں ہر کوئی جانتا ہے کہ اصل میں بیلٹ پیپر پر ایک ہی نام ایسا ہوگا جو کوئی معنی رکھتا ہے اور وہ نام بشارلاسد کا اپنا ہوگا۔

شام کے ایک جانے پہچانے صحافی نے مجھے بتایا کہ چند دن ہوئے ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے میڈیا کے لوگوں کو اپنے دفتر بلایا تھا اور بڑے پُرجوش انداز میں انہیں بتایا کہ میڈیا کو چاہئیے کہ وہ تمام امیدواروں کو اپنی خبروں میں مساوی جگہ دیں۔

اہلکار نے میڈیا والوں کو یہ بھی بتایا کہ سرکاری ٹیلی ویژن خصوصی پروگرام نشر کرے گا جس میں رائے دہندگان کو انتخابات کے نئے قوانین کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

لیکن مجھے اس صحافی نے بتایا کہ اس نے سرکاری اہلکار کو کہا کہ وہ اپنا وقت برباد نہ کریں۔

صحافی نے مجھے بتایا کہ انتخابات میں بشارالاسد کے علاوہ کسی دوسرے امیدوار کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ شامی رائے دہندگان دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ ایک دھڑا وہ ہے جو بشارالاسد کو ووٹ دے گا جبکہ دوسرا بشارالاسد کے خلاف ووٹ دے گا، یعنی ووٹ ڈالنے کے لیے جائے گا ہی نہیں۔

اس کا مطلب یہی ہے کہ شام میں کوئی عام انتخابات نہیں ہونے والے بلکہ یہ ایک ریفرنڈم ہوگا، اس بات پر ریفرنڈم کہ بشارالاسد کا دور کیسا تھا۔ بلکہ ریفرنڈم اس بات پر ہوگا کہ بشارالاسد اتنے زیادہ عرصے تک صدارت پر قائم کیسے رہے۔

اس بات میں کسی کو کوئی شک نہیں کہ شام کے ان علاقوں میں صدر بشارالاسد ہی جیتیں گے جہاں ابھی تک مکمل تباہی نہیں ہوئی، وہاں جنگ جاری ہے اور باغیوں کا کنٹرول ہے۔

شام میں زیادہ تر لوگوں کا خیال یہی ہے کہ صدارتی انتخابات کو انتخابات نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اصل میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ لیکن آپ جو بھی کہیں، آج کے شام کی حقیقت یہی ہے کہ یہ ملک صدر اسد کے حامیوں اور مخالفین میں بری طرح تقسیم ہو چکا ہے اور ان دونوں دھڑوں کے درمیان شامیوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جنھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کیا کریں اور جائیں تو جائیں کہاں۔

اسی بارے میں