یوکرین: سلوویالنسک میں فوجی مبصر رہا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یرغمال بنائے جانے والے دیگر سات مبصرین کو اتوار کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا

یوکرین کے مشرقی شہر سلوویالنسک میں روس نواز علیحدگی پسندوں نے یرغمال بنائے جانے والےایک فوجی مبصر کو رہا کر دیا ہے جب کہ باقی سات فوجی مبصرین ان کے قبضے میں ہیں۔

رہائی پانے والے فوجی مبصر کا تعلق سویڈن سے بتایا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سویڈن کے فوجی مبصر کو طبی وجوہات کی بنا پر رہا کیا گیا۔

واضح رہے کہ مشرقی یوکرین میں روس حامی فوجیوں نے گذشتہ دنوں ایک بس پر سوار یورپی مبصرین کو اغوا کر کے یرغمال بنا لیا تھا۔

یرغمال بنائے جانے والے دیگر سات مبصرین کو اتوار کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

ان مبصرین کا تعلق جرمنی، پولینڈ، سویڈن، ڈنمارک اور چیک جمہوریہ سے ہے اور ان کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

علیحدگی پسند گروپ سے بات کرنے والے جرمنی کےکرنل ایکسل نے کہا کہ یرغمال بنائے جانے والے مبصرین نیٹو کے اہل کار نہیں ہیں۔

اس سے پہلے علیحدگی پسندوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے جن افراد کو یرغمال بنایا وہ مسلح جنگجو نہیں بلکہ فوج کی وردی میں سفارت کار تھے۔

دوسری جانب یورپی یونین کے سفارت کار سوموار کو روس کے خلاف مزید پابندیوں پر بات کرنے کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کے لیے روس کے نمائندے نے کہا تھا کہ ان کا ملک یوکرائن کے مشرقی حصے سے اغوا ہونے والے یورپ کے فوجی مبصرین کی محفوظ رہائی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روس پر زور دیا تھا کہ وہ یورپی فوجی مبصرین کی رہائی کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرے۔

اپنے روسی ہم منصب سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کیری نے یوکرین کی سرحد پر ’اشتعال انگیز فوجی نقل و حرکت‘ پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ادھر روس حامی فوجیوں نے مشرقی یوکرین کے درجنوں شہروں میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور کیئف کی حکومت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔

مغربی ممالک ماسکو پر الزام لگاتے ہیں کہ گذشتہ ماہ یوکرین سے کرائمیا کی علیحدگی کے بعد روس مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسند بغاوت کی رہنمائی کر رہا ہے تاہم روس ان الزامات کی سختی کے ساتھ تردید کرتا ہے۔

اسی بارے میں