’حلب کے لوگ خوف اور خطرے میں جی رہے ہیں‘

Image caption شام میں فضائی بمباری میں اس سال ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں

بی بی سی کی ایک ٹیم نے حلب میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کے بعد شام کے شہریوں پر فضائی بمباری کے خوفناک اثرات دیکھے ہیں۔

بی بی سی پہلا ایسا مغربی نشریاتی ادارہ ہے جسے اس سال شامی باغیوں کے قبضے میں حلب کے علاقوں تک جانے کی اجازت ملی ہے۔ اس دوران بی بی سی کے صحافیوں کو مختلف امدادی ٹیموں سے بات چیت کرنے کا موقع ملا ہے۔

امدادی ٹیموں کا کہنا ہے کہ حلب کے شہری ’خوف اور خطرے‘ میں جی رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شام میں فضائی بمباری میں اس سال ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

ہنگامی امداد مہیا کرنے والی شہری دفاع کی ایک ٹیم متاثرین میں سے زندہ بچنے والوں کی تلاش کرتی ہے اور ہلاک ہونے والوں کی لاشیں جمع کرتی ہے۔

گذشتہ سال آٹھ امدادی کارکن لوگوں کی زندگیاں بچاتے ہوئے ہلاک ہوگئے تھے۔

شہری دفاع کی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ لوگوں کی مدد کرنا ان کی ذمہ داری ہے لیکن وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بھی باقی شہریوں کی طرح خوف میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔ اکثر ایک ہی مقام کو کئی بار نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ بات ہمارے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے اور ہمارے اندر خوف پیدا کرتی ہے۔‘

حلب شام کا سب سے بڑا شہر ہے، اور ماضی میں ملک کا اقتصادی دارالحکومت رہا ہے۔ تاہم گذشتہ برس ستمبر سے حلب عام شہریوں کے خلاف میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق: ’شام کی حکومت اپنے شہریوں کے خلاف ایک غیر امتیازی اور غیر قانونی جنگ کر رہی ہے۔‘

اس تنظیم نے مزید کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں بیرل بم کے استعمال سے شامی حکومت حلب میں ’دہشت‘ پھیلا رہی ہے۔

Image caption قوام متحدہ کی اس قراردار کے منظور کیے جانے کے بعدتقریباً 700 عام شہری فضائی حملوں اور بیرل بم سے ہلاک ہوئے ہیں

فروری میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قراردار منظور کی تھی جس کے تحت ’عام شہریوں کے خلاف تمام حملے‘ اور دونوں جانب سے شہریوں پر حملہ اور محاصرہ فوری طور پر ختم کیے جانے چاہیے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اپوزیشن کے ایک نگراں گروپ کے مطابق اقوام متحدہ کی اس قراردار کے منظور کیے جانے کے بعدتقریباً 700 عام شہری فضائی حملوں اور بیرل بم سے ہلاک ہوئے ہیں۔

شام کے صدر بشار الاسد کا اس بات پر اصرار ہے کہ ان کی فوج صرف ’دہشت گردوں اور انتہا پسندوں‘ کو نشانہ بنا رہی ہے اور عام شہریوں کی حفاظت کے لیے لڑ رہی ہے۔

بی بی سی تقریباً دو سال سے جب سے حلب میں جنگ شروع ہوئی ہے، وہاں کوریج کرتی رہی ہے۔

چند ہفتے پہلے حلب میں جنگ میں اس وقت شدت آگئی تھی جب مختلف باغی گروپوں نےمتحد ہو کر سرکاری مقامات پر اچانک حملہ کیا۔ ایک باغی گروپ کے سربراہ نے بتایا کہ ’حکومت شہریوں کو بیرل بم اور فضائی حملوں سے ڈرا رہی ہے۔ اس سے مختلف باغی گروپ اکٹھے ہوئے اور انھوں نے مشترکہ کارروائیاں کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

حلب میں جنگ کی وجہ سے 70 فیصد رہائشیوں نے شہر چھوڑ دیا ہے۔ ایک شہری نے کہا: ’یہ کوئی زندگی نہیں ہے۔ ہم دن رات بم گرنے سے ڈرتے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں، اگر ہم اس راستے جاتے ہیں تو کیا محفوظ رہیں گے بھی یا نہیں۔

صدر اسد کی اس پیشگوئی کے باوجود کہ شام میں اس سال کے آخر تک جنگ بند ہوجائے گی، اس بات کی کوئی واضح آثار نہیں کہ یہ لڑائی ختم ہوگی۔

سرحدی راستوں سے شام میں تھوڑی بہت امداد پہنچ رہی ہے، لیکن شام کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں ایسا لگتا ہے کہ باہر کی دنیا کو ان کی کوئی پروا نہیں اور اس نے انھیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔

ان پر مسلسل حملے ہوتے ہیں جن کا دفاع کرنا مشکل ہے۔ یہ لوگ دو ایسے فریقوں کے درمیان پھنس کے رہ گئے ہیں، جن کا مقصد صرف جنگ کیے جانا ہے۔

اسی بارے میں