سعودی عرب: وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 100 سے زیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے

سعودی عرب نے کہا ہے کہ سنہ 2012 سے اب تک کم از کم سو سے زیادہ مریض مرس نامی کرونا وائرس کی زد میں آ کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

سعودی عرب کے محکمۂ صحت نے کہا ہے کہ اتوار کو اس وائرس سے مزید آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس طرح اب اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 102 ہوگئی ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ ریاض، جدّہ اور دمام کے تین ہسپتالوں میں مرس کے علاج کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ مرس نظام تنفس کو متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے بخار، سرسام یا نمونیا اور گردے ناکارہ ہو جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس کے انفیکشن کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صحت کی عالمی تنظیم ڈبلیو ایچ او نے سعودی عرب سے انفیکشن کی جانچ میں امداد کی پیش کش کی ہے۔

سعودی عرب کے محکمۂ صحت نے ان اموات کی معلومات اتوار کو دیر سے فراہم کی۔

اس وائرس کے تازہ ترین شکار افراد میں ایک بچہ شامل ہے جو دارالحکومت ریاض میں چل بسا جبکہ تین افراد مغربی جدّہ شہر میں اس کا شکار ہوئے۔

وزارت صحت نے کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں مرس کے 16 نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیر صحت عبداللہ الربیعہ کو پیر کو ان کے عہدے سے برخاست کر دیا گيا

واضح رہے کہ مرس یا ’مڈل ایسٹ ریسپیریٹری سنڈروم‘ مشرق وسطی کے تنفس کے مسائل کا مخفف ہے یعنی یہ مرض اس علاقے سے مخصوص ہے۔

سنیچر کو مصر میں ایسا پہلا کیس درج کیا گیا جب ایک 27 سالہ شخص میں اس بیماری کی تشخیص ہوئي جو حال ہی میں سعودی عرب سے وہاں پہنچا تھا۔

وزیر صحت عادل فقیہ نے کہا کہ اس بیماری کے علاج کے لیے تین ہسپتالوں میں سپیشلسٹ سہولیات فراہم کی گئی ہیں جہاں 146 مریضوں کو انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھا جا سکتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی باشندوں نے سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں حکومت کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مرس سے مرنے والوں کی تعداد میں آئے دن اضافے کے دوران گذشتہ پیر کو سعودی عرب کے وزیر صحت عبداللہ الربیعہ کو بغیر کسی وضاحت کے ان کے عہدے سے برخاست کر دیا گيا ہے۔

اسی بارے میں