مشرقِ وسطیٰ: مذاکرات کی مہلت ختم، امن معاہدہ نہیں ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے فریق سے بات چیت نہیں کرے گا جس کا شریک حماس ہو

امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کے لیے دی گئی مہلت بغیر کسی امن معاہدے کے ختم ہو گئی ہے۔

امریکہ نے اسرائیل اور فلسطین کو خطے میں امن بحال کرنے کے لیے گذشتہ جولائی میں تین سال کے تعطل کے بعد مذاکرات کے لیے راضی کیا تھا۔

طرفین کے درمیان کئی دور کی بات چیت کے بعد مذاکرات کا تازہ ترین دور گذشتہ ہفتے روک دیا گیا کیونکہ مذاکرات میں شامل فلسطینی دھڑے فتح نے حماس کے ساتھ سیاسی معاہدے کا اعلان کر دیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے مذاکرات شروع کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انھوں نے اسی دوران ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اسرائیل کو ’نسلی متعصب ملک‘ کہنے کی تردید کی گئی ہے۔

پیر کو بند کمرے میں ہونے والی ایک اجلاس کے دوران ان کو یہ کہتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا کہ اگر دو ریاستی حل پر جلد نہیں پہنچا گیا تو اسرائیل کو نسل پرست ریاست بننے کا خطرہ ہے۔

ان کے اس بیان کو شائع کرنے والے اخبار ڈیلی بیسٹ کے مطابق جان کیری نے کہا تھا: ’دو ریاستی حل پر حقیقی متبادل کے طور پر زور دیا جائے گا۔ کیوں کہ ایک مشترکہ ریاست یا تو دوسرے درجے کے شہریوں پر مشتمل نسلی متعصب ریاست بن کر رہ جائے گی، یا پھر یہ ایسی ریاست ہو گی جو اسرائیل کے بطور یہودی ریاست رہنے کی صلاحیت کو تباہ کر دے گی۔‘

تاہم منگل کو جاری اپنے بیان میں انھوں نے کہا: ’میرے خیال میں ہم نے نہ تو عوام میں اور نہ ہی تخلیے میں کبھی اسرائیل کو نسلی بنیاد پر تفریق کرنے والا ملک کہا ہے یا یہ کہا ہے کہ وہ ایسا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔‘

Image caption فتح اور حماس نے گذشتہ ہفتے اتحاد کا اعلان کیا تھا

بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے مدیر جیرمی بوین کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ناکامی کے سبب دو ریاستی حل کا حصول مشکوک ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات بستیوں اور عمارتوں کی تعمیر اور قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے باربار مشکلات کا شکار رہے۔

اسرائیل نے اس وقت مذاکرات ختم کر دیے تھے جب گذشتہ بدھ کو فلسطین کے دو اہم دھڑوں سیکولر فتح اور اسلام پسند حماس نے آپس میں اتحاد کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے میں چند ہفتوں میں اتحادی حکومت بنانے کا کہا گیا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے فریق سے بات چیت نہیں کرے گا جس کا شریک حماس ہو۔ حماس اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عباس یا تو اسرائیل کے ساتھ امن رکھیں یا پھر حماس کے ساتھ معاہدہ کریں لیکن وہ دونوں کے ساتھ (رشتہ) نہیں رکھ سکتے۔‘

اس وقت امریکہ نے اتحاد کے معاہدے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا لیکن بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔

بی بی سی کی اقوام متحدہ کی نمائندہ باربرا پلیٹ اوشر کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اب وہاں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے گا اور مذاکرات کی دوبارہ بحالی کی کوشش کرتا رہے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اب فلسطینی دوطرفہ مذاکرات کے بجائے اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے اپنی ریاست کے قیام کی کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں