لوہانسک:سرکاری عمارتوں پر روس نواز مظاہرین کا قبضہ

تصویر کے کاپی رائٹ r
Image caption مظاہرین نے ’روس کے لیے ریفرنڈم‘ کے نعرے لگائے اور سرکاری عمارت پر روس کا پرچم لہرا دیا

روس نواز علیحدگی پسندوں نے یوکرین کے مشرقی شہر لوہانسک میں علاقائی انتظامیہ کے ہیڈکوارٹر سمیت کئی سرکاری عمارتوں پر دھاوا بول دیا ہے۔

علیحدگی پسند انتظامیہ کے ہیڈکوارٹر اور وزیرِ قانون کے دفتر پر قابض ہوگئے ہیں اور مسلح افراد نے شہر کے مرکزی پولیس سٹیشن پر بھی حملہ کیا ہے۔

مفادات نشانہ بنےتو جوابی کارروائی کریں گے: روس

یوکرین: مغربی ممالک کیا کر سکتے ہیں؟

چند درجن افراد سرکاری عمارتوں کی کھڑکیاں اور دروازے توڑ کر اندر داخل ہوئے۔ انھوں نے ’روس کے لیے ریفرنڈم‘ کے نعرے لگائے اور عمارت پر روس کا پرچم لہرا دیا۔

یوکرین کے عبوری صدر اولیکسیندر ترچینوف نے مقامی پولیس پر ’کارروائی نہ کرنے پر‘ تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ مجرمانہ سازش کی مرتکب ہو رہی ہے۔

اسے سے قبل امریکہ کے بعد یورپی یونین نے بھی روس کے نائب وزیر اعظم، فوج اور انٹیلی جنس کے سربراہان سمیت ایسے اعلیٰ عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو اس کی نظر میں یوکرین میں حالات کو خراب میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرین کے بہت سے مشرقی شہروں میں مسلح افراد نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے

روس نے امریکہ اور یورپی یونین کی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے یورپی یونین پر الزام لگایا ہے کہ وہ امریکی ایما پر پابندیاں عائد کر رہی ہے۔

روس کے نائب وزیر خارجہ سرگے ریبکوف نے کہا ’آہنی پردے‘ جیسی پابندیوں سے روس کا ہائی ٹیک سیکٹر متاثر ہو سکتا ہے۔

ماسکو نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک کو ’شرم آنی چاہیے‘ کہ وہ امریکی اثر میں فیصلے کر رہے ہیں۔

روس نے ایک بار اپنے اس وعدے کا اعادہ کیا کہ وہ یوکرین میں فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

یوکرین میں روسی حامی کارکنوں نے درجنوں قصبوں پر اپنا قبضہ جما رکھا ہے اور ماضی میں روس نے کہا تھا کہ اگر اس کے مفادات متاثر ہوئے تو وہ یوکرین میں فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

اس سے قبل روس نے اپنے سرحدوں کے قریب امریکی اور نیٹو افواج کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

روس کے وزیرِ دفاع سرگے شوئگو نے اپنے امریکی ہم منصب چک ہیگل سے ٹیلی فون پر بات کرت ہوئے کہا کہ وہ ’بیان بازی کم کریں۔‘

روسی وزیرِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے ٹیلی فون پر اپنے امریکی ہم منصب سے تقریباً ایک گھنٹے کی تک ’دو ٹوک‘ گفتگو کی ہے۔

سرگے شوئگو نے کہا کہ مشرقی یورپ میں امریکی اور نیٹو افواج کی سرگرمیوں کے ساتھ ایک بیان بھی جاری ہوا تھا جس میں روس کو ’قابو‘ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

امریکہ نے پولینڈ اور بلقان کی ریاستوں میں 600 فوجی بھیج دیے ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس نے یہ اضافی فوجی اپنے نیٹو اتحادیوں کو مدد کی یقین دہانی کرانے کے لیے تعینات کیے ہیں۔

امریکی محکمۂ دفاع نے یہ بھی کہا ہے کہ سرگے شوئگو نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ ماسکو یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

امریکی محکمۂ دفاع نے کہا کہ چک ہیگل نے روس کو خبردار کیا کہ اس کی طرف سے مسلسل جارحیت کے نتیجے میں ان پر سفارتی اور معاشی دباؤ بڑے گا۔

چیک ہیگل نے ماسکو سے یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) سے تعلق رکھنے والے سات مبصرین کی رہائی میں مدد دینے کا بھی کہا۔

امریکہ نے یوکرین میں جاری بحران کے پیش نظر پیر کو روس کے سات افراد اور17 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں جن کا تعلق روسی صدر کے ’قریبی ساتھیوں‘ میں سے ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ روس پر مزید پابندیاں ’ماسکو کی جانب سے یوکرین میں غیر قانونی مداخلت‘ کے باعث عائد کی گئی ہیں۔

جن پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں سے ایک ایگور سیچن ہیں جو آئل کمپنی روزنیفٹ کے سربراہ ہیں اور دوسرے سرگے کیموزوف ہیں جو ٹیکنالوجی کی کمپنی روزٹیک کے سربراہ ہیں۔

دریں اثنا یوکرین کے بہت سے مشرقی شہروں میں مسلح افراد نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

مغربی ممالک نے ماسکو پر مشرقی یوکرین میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ روس اس کی پرزور تردید کرتا ہے۔

اسی بارے میں