شام:مارٹر حملوں اور دھماکوں میں درجنوں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس نے ثنا نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ شہر کے شیعہ اکثریتی علاقے شاغور میں چار مارٹر گولے مارے گئے ہیں

شام کے ریاستی میڈیا کے مطابق دمشق اور حمص اور مارٹر حملوں اور کار بم دھماکے میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

شامی حکام کا کہنا ہے کہ حمص میں ہونے والے دھماکوں میں کم از کم 37 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں سے کم از کم ایک کار بم حملہ تھا۔

یہ دھماکے حمص کے پرانے شہر میں علوی آبادی کے ضلع زہرہ میں ہوئے۔

’حلب کے لوگ خوف اور خطرے میں جی رہے ہیں‘

سرکاری اہلکاروں اور سیریئن آبزرویٹری آف ہیومن رائٹس کے مطابق ان دھماکوں میں 80 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل وسطی دمشق میں ایک ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ پر مارٹر گولوں کے حملے میں 14 افراد مارے گئے۔

پولیس نے ثنا نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ شہر کے شیعہ اکثریتی علاقے شاغور پر چار مارٹر گولے داغے گئے جن میں سے دو گولے بدر الدین الحسینی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ پرگرے۔

یاد رہے کہ ان حملوں سے ایک روز قبل ہی شامی صدر بشار الاسد نے انتخابات میں شرکت کے لیے اپنے کاغذات جمع کروائے ہیں اور انھوں نے اس مطالبے کو رد کر دیا ہے کہ شامی خانہ جنگی کے اختتام کے لیے وہ عہدہ چھوڑ دیں۔

دمشق کے مضافاتی علاقوں میں شامی حکومت نے باغی فوجیوں کو متعدد علاقوں سے نکال دیا ہے تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ باغیوں نے اس کے ردِعمل میں دارالحکومت کے وسط میں راکٹ اور مارٹر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 35 لاکھ افراد کو بنیادی صحت کی سہولیات مسیر نہیں ہیں

خبر رساں ادارے ثنا کے مطابق ’شغور میں دہشتگردوں کے حملے میں 14 افراد ہلاک اور 80 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔‘

شامی حکام صدر بشار الاسد کی مخالفت کرنے والے اور ان کی برطرفی کا مطالبہ کرنے والے تمام عناصر کے لیے دہشتگرد کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے معاملات پر نظر رکھنے والی تنظیم سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی اس حملے کی رپورٹ کی ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق بدر الدین الحسینی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ اسلامی قوانین کا ایک تعلیمی مرکز تھا اور اس میں چودہ سال تک کے کم عمر طلبہ بھی زیرِ تعلیم تھے۔

تین سال سے شام میں جاری خانہ جنگی میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں 35 لاکھ افراد کو بنیادی صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔

معروف وکلا کے ایک گروہ نے اقوام متحدہ سے ایک خط میں اپیل کی ہے کہ شام میں لوگوں کو امداد شامی حکومت کی اجازت کے بغیر ہی مہیا کی جائے۔

وکلا کا کہنا ہے کہ امداد فراہم کرنے کی اجازت بےجا طور پر نہیں دی جا رہی ہے۔

مارچ 2011 سے شام میں حکومت مخالف مسلح تحریک چل رہی ہے جس میں حکومتی فوجوں سے لڑنے والوں میں مذہبی شدت پسند اور القاعدہ سے منسلک جہادی بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں