مشرقی یوکرین میں فوج بےبس ہے: تورچینوف

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مشرقی یوکرین میں روس نواز مظاہرین حکومتی عمارتوں پر دھاوا بول کر قبضہ کر رہے ہیں

یوکرین کے عبوری صدر اولیکسیندر تورچینوف نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی فوج ملک کے مشرقی علاقوں دونیتسک اور لوہانسک میں روس نواز علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی ہے۔

تورچینوف کا کہنا ہے کہ افواج بےچینی کی فضا ختم کرنے میں ’بےبس‘ رہی ہیں اور اب ان کا ہدف اس بےچینی کو ملک کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے روکنا ہے۔

مفادات نشانہ بنےتو جوابی کارروائی کریں گے: روس

یوکرین: مغربی ممالک کیا کر سکتے ہیں؟

دونیتسک اور لوہانسک کے علاقوں میں علیحدگی پسندوں نے متعدد سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور کئی عالمی مبصرین بھی ان کے قبضے میں ہیں۔

یوکرینی صدر نے یہ بھی کہا کہ روسی افواج کے سرحد پار کرنے کے خطرے کے پیشِ نظر یوکرین اس وقت ’جنگ کی مکمل تیاری کی حالت‘ میں ہے۔

بدھ کو علاقائی گورنروں سے ملاقات میں تورچینوف نے کہا کہ ’فی الوقت سکیورٹی ادارے دونیتسک اور لوہانسک میں حالات پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان علاقوں میں شہریوں کی حفاظت کے کام پر مامور اہلکار ’بےبس‘ دکھائی دیے ہیں بلکہ چند یونٹ تو دہشت گرد گروپوں کی مدد کرتے یا ان سے تعاون کرتے دکھائی دیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرین اس وقت جنگ کی مکمل تیاری کی حالت میں ہے: تورچینوف

یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہمارا کام اب دہشت گردی کے خطرے کو خارکیو اور اوڈیسا کے خطوں تک پھیلنے سے روکنا ہے۔‘

تورچینوف کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرین اور روس کی سرحد پر ہزاروں روسی فوجیوں کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ ’روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف جنگ شروع کرنے کا خدشہ حقیقی ہے۔‘

تاہم روس جس نے گذشتہ ماہ یوکرین کے خطے کرائمیا کو اپنا حصہ بنا لیا تھا، کہتا رہا ہے کہ اس کا مشرقی یوکرین میں فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتن بھی اصرار کرتے رہے ہیں کہ ’نہ تو روسی تربیت کار نہ ہی روسی خصوصی فوج کے دستے‘ یوکرین میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والوں کی اکثریت ہے اور وہ ملک کے سابق روس نواز صدر وکٹر یانوکووچ کے حامی ہیں۔

اس علاقے میں اب روس نواز مظاہرین حکومتی عمارتوں پر دھاوا بول کر قبضہ کر رہے ہیں۔

بدھ کو بھی ورلوکا نامی شہر میں مسلح افراد نے پولیس کے دفتر اور ٹاؤن ہال پر قبضہ کیا ہے۔

اس سے قبل منگل کو علیحدگی پسندوں نے لوہانسک میں علاقائی انتظامیہ کے ہیڈکوارٹر سمیت کئی سرکاری عمارتوں پر دھاوا بول دیا تھا اور انتظامیہ کے ہیڈکوارٹر اور وزیرِ قانون کے دفتر پر قابض ہوگئے، جبکہ مسلح افراد نے شہر کے مرکزی پولیس سٹیشن پر بھی حملہ کیا تھا۔

اسی بارے میں