’پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے اثاثے ضبط کرنے کی مہم سست ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’حکومتِ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کئی نئے قوانین نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن دہشت گردی اور دوسرے جرائم کے خلاف عدلیہ کی کارروائی انتہائی سست ہے‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے دہشت گردی پر اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جن پاکستانی تنظیموں کو اقوام متحدہ نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے وہ پاکستان میں بے حد آسانی سے اپنے نام بدل کر پابندیوں سے بچ نکلتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی دفتر خارجہ ہر سال کانگریس کے سامنے دہشت گردی پر ایک رپورٹ پیش کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک برس میں اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیموں پر پابندیاں لگانے کے لیے پاکستان نے کارروائی تو کی ہے لیکن بین الاقوامی قانون کے تحت دہشت گرد تنظیموں کے اثاثے ضبط کرنے کی مہم سست رہی ہے۔

پاکستان کے بارے میں اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف کئی نئے قوانین نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن دہشت گردی اور دوسرے جرائم کے خلاف عدلیہ کی کارروائی انتہائی سست ہے۔

رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے مقدمات کے لیے بنی عدالتوں میں گواہوں، وكلا، ججوں اور پولیس کو شدت پسندوں کی طرف سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے عدالت کی رفتار سست ہے اور مبینہ دہشت گرد اکثر بری ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے تعلقات کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو اب بھی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ حاصل ہے اور ان کے خلاف پاکستانی سکیورٹی فورسز نے کوئی خاص فوجی یا قانونی کارروائی نہیں کی ہے۔

امریکی دفترِ خارجہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے تحریکِ طالبان اور لشکر جھنگوي جیسے گروہوں کے خلاف مہم جاری رکھی ہوئی ہے لیکن لشکر طیبہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

’لشکر طیبہ پاکستان میں کھلے عام تربيتي كیمپ چلا رہی ہے اور جلوس نکال رہی ہے۔ لشکر طیبہ پاکستان میں تو پیسہ اکٹھا کر ہی رہی ہے لیکن اس کے علاوہ خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور یورپ سے بھی اسے مالی مدد مل رہی ہے۔‘

بدھ کو جاری اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پوری دنیا میں دہشت گردی کا چہرہ تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ القاعدہ اور اس سے تعلق ركھنے والی تنظیمیں اب زیادہ تشدد کی حمایت کرتی ہیں اور ساتھ ہی شام میں دہشت گردوں کی ایک نئی نسل سامنے آ رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے جنگجو اب سینٹرل کمانڈ کی بھی نہیں سنتے اور کئی ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کے حکم کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں