افغانستان: مٹی کے تودے گرنے سے 350 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اطلاعات کے مطابق مٹی کے تودے گرنے سے ایک ہزار کے لگ بھگ گھر تباہ ہو گئے

اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں شدید بارشوں کے بعد مٹی کے تودے گرنے سے کم سے کم 350 افراد ہلاک اور سینکڑوں لاپتہ ہو گئے ہیں۔

شمال مشرقی صوبے بدخشاں کے گورنر کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث سینکڑوں گھر پہاڑوں سے بہہ کر آنے والی چٹانوں اور کیچڑ میں دب گئے۔

علاقے میں امدادی سرگرمیاں اور لاپتہ افراد کا تلاش شروع کر دی گئی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لائن کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی افغانستان کے بیش تر حصوں میں ان دنوں شدید بارشیں ہو رہی ہیں اور گزشتہ ہفتے سیلاب میں تقریباً 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بدخشاں میں رو نما ہونے والا سانحہ کہیں زیادہ تباہ کن محسوس ہوتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مٹی کے تودے گرنے سے ایک ہزار کے لگ بھگ گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ جمعہ کو افغانستان میں چھٹی ہوتی ہے اور لوگوں کی اکثریت اپنے گھروں پر رہتی ہے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ 2000 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بدخشاں کے پولیس کمانڈر فضل الدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ 215 خاندانوں کا ہارگو نامی گاؤں تما خاندانوں سمیت مٹی کے تودے تلے دب گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ان کا کہنا اس بات کے امکان بہت ہی کم ہیں کہ کیچڑ اور تودوں کے اس انبار کے نیچے سے کسی کو بچایا جا سکے گا۔ اس کی ایک بڑی وجہ علاقے کا دور دراز ہونا اور امدادی مشینری کا دستیاب نہ ہونا ہے۔

بدخشاں سے بی بی سی کے نامہ نگار قربان علی کا کہنا ہے کہ بارش جاری ہے اور مزید تودوں کا خطرہ موجود ہے۔

بدخشاں کے پولیس کمانڈر کا کہنا ہے کہ کسی کو مٹی کے تودوں کے نیچے سے زندہ نکالے جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دور افتادہ علاقے میں اگر امدادی مشینری بھی موجود ہوتی تب بھی کسی کو زندہ نکالنا ناممکن تھا۔

بدخشاں افغانستان کا دور افتادہ علاقہ ہے جس کی سرحدیں تاجکستان، چین اور پاکستان سے ملتی ہیں۔

بدخشاں کے گورنر شاہ ولی اللہ ادیب نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ امدادی کارکنوں کے پاس سامان نہیں تھا اور انہوں نے آس پاس کے علاقوں سے بیلچوں لانے کی اپیل کی۔

’کسی کو زندہ نکالنا ممکن نہیں ہے۔ ہمارے پاس بیلچے کم ہیں اور ہمیں مشینری کی ضرورت ہے۔‘

گورنر نے کہا کہ آس پاس کے علاقوں کو ممکنہ لینڈ سلائیڈ کے خدشے کے باعث خالی کرا لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امدادی کارکنوں کے پاس سامان نہیں تھا اور انہوں نے آس پاس کے علاقوں سے بیلچوں لانے کی اپیل کی: بدخشاں کے گورنر

اسی بارے میں