’ایم ایچ 370 کی تلاش میں ایک سال لگ سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جمعرات کو ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایم ایچ 370 کے لاپتہ ہونے اور اس کی تلاش شروع ہونے میں چار گھنٹے کا فرق تھا

ملائیشیا کے لاپتہ طیارے کی تلاش کی رہنمائی کرنے والے حکام نے کہا ہے کہ لاپتہ جہاز ایم ایچ 370 کی تلاش میں سال لگ سکتا ہے۔

لاپتہ طیارے کی تلاش کرنے والی مہم کے رہنما ریٹائرڈ ایئر چیف مارشل اینگس ہوسٹن نے ملائیشیا میں کہا کہ وہ پر اعتماد ہیں کہ ’موثر تلاش‘ کی بدولت وہ طیارہ ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

آسٹریلیا، چین اور ملائیشیا کے حکام آئندہ ہفتے کینبرا میں ملاقات کے دوران لاپتہ طیارے کی جاری تلاش پر بحث کریں گے۔ اس اجلاس میں آئندہ کے لائحۂ عمل کا تعین کیا جائے گا۔

ریٹائرڈ ایئر چیف مارشل اینگس ہوسٹن نے کہا کہ ’یہ بہت ہی اہم اجلاس ہے کیونکہ اس میں رسمی طور پر کسی بھی مرحلے پر بغیر کسی رکاوٹ کے تلاش کو جاری رکھنے کے لیے آئندہ کا لائحۂ عمل طے کیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’تلاش میں آٹھ مہینے لگ سکتے ہیں، اور خراب موسم یا دیگر مسائل کی وجہ سے اس پر 12 مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’لیکن ہم ایم ایچ 370 کو تلاش کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں اور میں پر اعتماد ہوں کہ موثر تلاش کے ذریعے آخر کار یہ طیارہ مل ہی جائے گا۔‘

کوالالمپور سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر بردار طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا اور اس پر 239 افراد سوار تھے، جن میں سے بیشتر چینی باشندے تھے۔

سیٹلائٹ معلومات کی بنیاد پر حکام کا خیال ہے کہ مسافر طیارہ اپنے متعین راستے سے بھٹک کر بہت دور بحرِ ہند کے جنوبی حصّے میں سمندر میں گر گیا تھا۔

جمعرات کو ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایم ایچ 370 کے لاپتہ ہونے اور اس کی تلاش شروع کرنے میں چار گھنٹے کا فرق تھا۔

ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کی ابتدائی رپورٹ میں یہ بات کہی گئی تھی کہ ایم ایچ 370 کے ریڈار سے غائب ہونے کے 17 منٹ بعد احساس ہوا کہ طیارہ لاپتہ ہو گیا ہے۔

دریں اثنا ملائیشین ایئرلائن نے لاپتہ طیارے کے مسافروں کے لواحقین سے کہا ہے کہ ایئر لائن کی طرف سے مہیا کی گئی رہائش کو چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ملائیشین ایئرلائن نے لاپتہ طیارے کے مسافروں کے لواحقین سے کہا ہے کہ ایئر لائن کی طرف سے مہیا کی گئی رہائش چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں

ایئر لائن نے کہا کہ ’لاپتہ طیارے میں سوار مسافروں کے لواحقین کی پریشانی، تکلیف، غم و غصے کو سمجھتے ہیں اس پر ان سے ہمدردی کرتے ہیں۔‘

لیکن اس نے خبردار کیا کہ لاپتہ طیارے کی تلاش ایک ’لمبا عمل‘ ہے اور اس نے کہا کہ لواحقین اس حوالے سے کسی بھی پیش رفت کے لیے اپنے گھروں میں انتظار کریں۔

اس ہفتے کے اوائل میں آسٹریلیا کے حکام نے اعلان کیا تھا کہ لاپتہ طیارے کی تلاش کا عمل ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور ابتدائی طور پر سمندر میں زیرِ آب تلاش کے دوران طیارے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

خیال رہے کہ مختلف ممالک کے طیارے اور بحری جہاز سمندر میں ایم ایچ 370 کے کسی بھی قسم کے شواہد تلاش کرنے میں مصروف ہیں تاہم اب تک اس میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں