سنگاپور:’نہ تو انڈین چاہییں اور نہ ہی چینی‘

سنگاپور تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنگاپوری چینیوں کو شکایت ہے کہ انڈین اور چینی چینی اچھے کرایہ دار نہیں ہوتے

برطانیہ میں آٹھ سال گزارنے والے سری لنکن نژاد سنیل جب سنگاپور آئے تو انھیں ایک مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

’میں ان سب لوگوں کو فون کر رہا تھا جو کمرے کرائے پر اٹھانا چاہتے تھے۔‘ سنیل بتاتے ہیں کہ بات چیت تو شروع ہو جاتی تھی، شاید اس کی وجہ میرا انگریزی لہجہ تھا۔ لیکن جیسے ہی مالکان میرا نام سنتے، ان کا رویہ بدل جاتا۔ کوئی کہتا: ’معاف کریں، ہم ایسے لوگوں کو نہیں رکھنا چاہتے،‘ یا ’نہیں انڈین کے لیے کمرا نہیں۔‘

سنیل پیشے کے اعتبار سے سول انجینیئر ہیں اور انھیں کم سے کم چار مالک مکان مسترد کر چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’میں انھیں یہ سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ سری لنکن انڈین نہیں ہوتے، اور یہ کہ میں اپارٹمنٹ میں کھانے پکانے کا شوق نہیں رکھتا، میں تمام دن باہر رہوں گا لیکن اس کے باوجود وہ کمرا دینے پر تیار نہیں ہوئے۔‘

میں نے تنگ آ کر انڈین مالکان سے رابطوں کا فیصلہ کیا۔ ایک نے تو مجھے فوراً ہی کمرا دیکھنے کے لیے بلا لیا۔

یہ معاملہ ایک سنیل کے ساتھ ہی نہیں ہے۔ سنگاپور کے اخبارات میں ایسے اشتہارات آتے ہیں جن میں واضح طور پر لکھا ہوتا ہے: ’ نو انڈینز، نو (PRCs) پی آر سیز یعنی عوامی جمہوریہ چین والے۔‘

اپریل کی 24 تاریخ کو پراپرٹی گرو نامی ویب سائٹ پر ایسے اشتہارات کی تعداد 160 تھی جو انڈین یا اصلی یعنی چینی چینیوں کو کمرے یا فلیٹ دینے پر آمادہ نہیں تھے۔ یہ پہلو ’گم ٹری‘ جیسی ویب سائٹوں پر اور بھی نمایاں ہوتا ہے جہاں مالکان اپنے اشتہارات خود لگاتے ہیں۔

قانون کیا کہتا ہے؟ سنگاپور کے آئین کا شق 12 تو واضح طور پر کہتی کہ ہے قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور سب کو ایک سا تحفظ حاصل ہے۔

اگلی شقوں میں وہ ساری باتیں ہیں، یعنی رنگ و نسل، مذہب، تاریخ، جغرافیہ، تہذیب ثقافت، پیشہ کاروبار، زمین جائیداد کی ملکیت اور ملازمت وغیرہ کے حقوق، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شقوں کا استعمال صرف حکومت کے خلاف ہی کیا جا سکتا ہے۔ یعنی اگر حکومت کسی فرد یا گروہ کے خلاف کچھ کرے تو قانون آپ کی مدد کرے گا۔

Image caption انڈین اور چینی چینیوں کے بارے میں رائے ہے کہ وہ تیز بو والے مسالا دار کھانے پکاتے ہیں

ایسے اعداد و شمار کا ملنا محال ہے جن سے کسی نوع کے امتیاز کے بارے میں دوٹوک رائے قائم کی جا سکے۔

آخر مسئلہ کیا ہے؟ اس کا جواب ایک ہندوستانی ماہر کے پاس ہے۔ انھیں یہ راز ان کے ایجنٹ نے بتایا کہ ’انڈین ہمیشہ ایسے کھانے پکاتے ہیں جن سے تیز بو اٹھتی ہے۔‘

سنیل کی طرح ایک اور انڈین کو بھی ایسے ہی رویّے کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کے ایجنٹ کا انداز اور الفاظ قدرے مہذب تھے اس کا کہنا تھا ’کچھ مالکان کا رویہ قدرے مشکل ہو سکتا ہے۔‘

ایسے ہی رویّے کا سامنا خود مجھے بھی کرنا پڑا۔ جب میں فلیٹ کی تلاش میں تھا تو میرے ایجنٹ کو ایک ایسے مالک مکان کا فون آیا جسے میرے چینی ہونے پر پریشانی لاحق تھی۔

وہ دونوں خاصی دیر تک میرے بارے میں بحث کرتے رہے اور میں اذیت کے عالم میں سنتا رہا۔ جب بات ختم ہو گئی تو میں نے ایجنٹ سے پوچھا کیا انھیں یہ علم نہیں کہ میں برطانوی ہوں؟

میرے ایجنٹ کا جواب تھا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ سمجھتے ہیں تم ہو تو چینی چینی ہی لیکن پاسپورٹ برطانوی حاصل کر لیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے ایک سینیئر محقق کا کہنا ہے کہ نقل مکانی یا ہجرت کرنے والے مختلف گروہوں کے بارے میں لوگوں نے کچھ آرا طے کر لی ہیں اور وہ چلی جا رہی ہیں۔

’کچھ کے بارے میں رائے ہے کہ وہ گھروں کاخوب خیال رکھتے ہیں، کچھ کے بارے میں ہے کہ وہ جاتے ہیں تو گھروں میں ایسی بو چھوڑ جاتے ہیں جو جا کر نہیں دیتی اور اسی سے انھیں لگتا ہے کہ ایسے لوگوں کو جگہ دینے سے اس کی قیمت گر جائے گی۔‘

ایک سٹیٹ ایجنٹ کارلین کا کہنا ہے انڈین اور چینیوں کے بارے میں رائے ہے کہ ’ان میں سے اکثر ہر ہفتے گھر صاف نہیں کرتے، ایسے کھانے پکاتے ہیں جس میں اڑنے والے تیل کے ذرات آس پاس جم جاتے ہیں اور ان پر گرد بیٹھ جاتی ہے۔ وہ ایسے مسالے استعمال کرتے ہیں جن کی بو دوسروں کو بالکل پسند نہیں آتی۔‘

پھر ان کے بارے میں یہ رائے بھی ہے کہ وہ بغیر بتائے دوسروں کو ساتھ رکھ لیتے ہیں۔یعنی یہ ایک ثقافتی مسئلہ بھی ہے۔

سنگاپوری چینی مالک مکان اور انڈین کرائے دار کے درمیان ایک مشہور تنازع اس مصالحت پر ختم ہوا کہ انڈین صرف اُس روز اپنا روایتی کھانا پکائیں گے جس روز مالک مکان اور ان کے گھر کے لوگ دن بھر کے لیے کہیں گئے ہوئے ہوں گے۔

سنگا پور کی حکومت کسی سے امتیاز نہیں کرتی اور اسی پر سنگاپوری چینیوں کا شکایت ہے کہ حکومت مقامی چینیوں پر انڈینز کو ترجیح دیتی ہے۔ اسی سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ حکومت اور لوگوں کی سطح پر امتیازی رویے الگ الگ ہیں۔

نسلی امتیاز کا سے نمایاں اظہار تب ہوا جب ایک انڈین بس حادثے میں ہلاک ہو گیا اور سینکڑوں انڈین اور جنوبی ایشیائی تشدد پر اتر آئے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد نسلی امتیاز اور غیر ملکی افرادی قوت پر ایک بحث اور مذمتوں کا مقابلہ شروع ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سنگاپوری چینیوں کی رائے انڈینز کے بارے میں اور سخت ہو گئی۔

اسی بارے میں