شام: باغیوں کو محصور حمص سے نکلنے کی رعایت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک جب کہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں

شام میں حکومت سے ہونے والی مبینہ مفاہمت کے نتیجے میں باغیوں کو محصور شہر حمص کے اُس حصے سے نکلنے کا موقع دیا جائے گا جس پر حکومت کا کنٹرول ہے۔

شامی حکومت نے ان اطلاعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن باغی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگجو حمص کے شمالی حصے کی طرف پسپا ہوں گے۔ شمالی حصہ باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔

دو سال سے جاری محاصرے کے باوجود باغیوں نے حمص کے قدیم حصے کے کچھ علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہے۔ اس سال کے شروع میں محصور حصے سے شہریوں کو نکلنے کا موقع دیا گیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس رعایت کے نتیجے میں کوئی ایک ہزار باغی شمالی حمص کو پسپا ہوں گے۔

قبل ازیں صوبے حماہ میں سرکاری میڈیا کے مطابق دو خود کش حملوں میں 11 بچوں سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ’دہشت گرد دھماکے‘ جمعے کو حماہ کے شمال مشرقی حصے جبرین اور الحمیری میں ہوئے۔

خیال رہے کہ یہ دونوں گاؤں شامی حکومت کے زیرِ اثر ہیں۔ یہ دھماکے شام کے مرکزی شہر حمص میں ہونے والے دھماکوں کے چند دنوں بعد ہوئے۔ دھماکوں میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ابھی تک کسی نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم شدت پسند تنظیم القاعدہ سے منسلک نصرہ فرنٹ نے حالیہ چند ہفتوں میں متعدد کار بم دھماکے کیے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کی افواج اور باغی جنگجو عام شہریوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔اس سے پہلے 29 اپریل کو دمشق اور حمص میں مارٹر حملوں اور کار بم دھماکے میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک جب کہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق شام میں 35 لاکھ افراد کو بنیادی صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی ’بچے اور مسلح لڑائی‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مارچ سنہ 2011 سے شام میں حکومتی فورسز اور باغیوں کی لڑائی میں بچے بھی نشانہ بنے ہیں۔

رپورٹ میں بچوں کی ہلاکت کی تعداد کو ’ناقابلِ برداشت‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومتی افواج اور باغی بچوں کو ’خودکش بمبار یا انسانی حصار‘ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ دنیا کے اُن 14 ممالک پر مشتمل ہے جہاں بچے ظلم و تشدد کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں