بندوق تاننے والے اسرائیل فوجی کی فیس بک پر حمایت

Image caption ایک اسرائیلی فوجی کی حمایت میں فیسبوک پیج کو لاکھوں ’لائک‘ ملی

اسرائیل ڈفنس فورس (آئی ڈی ایف) کے سپاہی کی حمایت میں قائم کیے گئے ایک فیس بک پیچ کو ایک لاکھ بارہ ہزار سے زیادہ لوگوں نے ’لایک‘ (پسند) کیا ہے۔

آئی ڈی ایف کے اس سپاہی نے غرب اردن میں ایک فلسطینی نوجوان نے بندوق تان لی تھی۔

یہ کہانی یوٹیوب سے شروع ہوئی، پھرمقامی ٹی وی پر آئی اور وہاں سے فیس بک پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اعلیٰ سیاسی اہلکاروں کو اس قصہ کا نوٹس لینا پڑا جب یہ خبر مزید پھیل کر اسرائیلی اخباروں میں صفحہ اول کی زینت بن گئی۔

اتوار کے روز فلسطینی نوجوان کے ایک گروپ، یوتھ اگینسٹ سٹلمینٹس (یہودی آباد کاری کے خلاف نوجوان) نے یو ٹیوب پر ایک ویڈیو پوسٹ (جاری) کی جس میں دو فلسطینی نوجوان ایک اسرائیلی فوجی کی آنکھوں میں آنکھوں ڈالے کھڑے دکھائی دیے۔

جب ان میں سے ایک نوجوان آگے بڑہا تواسرائیلی فوجی نے اپنی بندوق کا رخ دونوں فلسطینوں کی طرف اس انداز میں کیا جیسے کہ وہ انھیں شوٹ کرنے لگا ہے۔ اس یوٹیوب وڈیو کا مقصد اسرائیلی فوج کی جارحیت کےبارے میں دنیا کو آگاہ کرنا تھا لیکن اسرائیل میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

ہزاروں لوگوں نے ’میں ناہال بریگیڈ کے ڈیوڈ کی حمایت کرتا ہوں‘ نامی فیس بک پیج کو ’لائک‘ کیا اور سینکڑوں نے اس عنوان کے ساتھ اپنی تصاویر بھی بھیجیں۔

پریشان کن بات یہ تھی کہ کئی تصاویر اسرائیلی فوج کی وری میں اراکین کی تھیں جوکہتے ہیں کہ وہ خود کو فلسطینوں کی طرف سے روزانہ کیے جانے والے تشدد کے سامنے مایوس اور بے بس محسوس کرتے ہیں۔

سیاست اور احتجاج میں حصہ لینے کی اسرائیلی فوجیوں کو اجازت نہیں ہے لیکن کئی اہلکاروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے ایسےکاموں میں پھر بھی شامل ہوئے۔

کچھ سیاستدانوں نے بھی حمایت کی تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ اسرائیل کے وزیر اقتصادیات، نفتلی بینیٹ نے ایک پوسٹ میں فوجی کو سراہا اور انھیں ’ڈیوڈ واریر‘ کا خطاب دیا اور تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’درست کام کیا‘۔

ہمیشہ کی طرح اس کہانی کے بھی مختلف زاویے ہیں۔ یوتھ اگینسٹ سٹلمنٹس کے رابطہ کار عیسیٰ عمرو نے کہا کہ: ’میری نظر میں یہ ایک نفرت انگیز مہم ہے۔‘ ان کےگروپ کا کام کیمرے اور سوشل میڈیا کے استعمال کی تربیت دینا ہے تاکہ اسرائیل کے ہاتھوں کیے جانے والے مظالم پر روشنی ڈالی جا سکے۔ ان کی یو ٹیوب پوسٹ کا مقصد اسرائیلی فوج کو ’شرمندہ‘ کرنا تھا۔

.

.