یوکرین: مبصرین رہا، مشرقی علاقے میں حملے جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعے کو امریکی صدر براک اوباما نے مبصرین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا ان کے اغوا کو ’ناقابل معافی‘ اور ’شرمناک‘ قرار دیا تھا

روس کی میڈیا نے بتایا ہے کہ روس نواز علیحدگی پسندوں نے جن سات بین الاقوامی مبصرین کو یرغمال بنا رکھا تھا انھیں آزاد کرا لیا گيا ہے۔

یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم او ایس سی ای سے تعلق رکھنے والے ان فوجی مبصرین کو 25 اپریل کو پکڑ لیا گیا تھا۔

ان کے ساتھ یوکرین کے جن پانچ فوجی اہلکار کو یرغمال بنایا گیا تھا انھیں بھی رہا کرا لیا گیا ہے۔

یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین کی حکومت نے مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی پھر سے شروع کر دی ہے۔

روس کی خبررساں ایجنسی آڑ آئی اے نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ایلچی ولادیمیر لوکن کا بیان نقل کرتے ہوئے کہا ہے: ’میری فہرست میں جن 12 افراد کے نام تھے ان سب کو رہا کر دیا گیا ہے۔‘

واضح رہے کہ ولادیمیر لیوکن روسی صدر ولادیمیر پوتن کے جانب سے یرغمال بنانے والوں سے بات کرنے کے لیے روانہ کیے گئے تھے۔

دوسری جانب یوکرین کی حکومت نے اوڈیسا شہر میں خونریز تشدد کے ایک دن بعد مشرقی علاقوں میں روس نواز علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے لیے فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔

یوکرین کے وزیر داخلہ آرسین اواکوو نے کہا کہ ’آپریشن صبح کے وقت جاری تھا اور کراماتورسک شہر کے نواح میں حملے جاری تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوکرین کے وزیر داخلہ اواکوو نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے ’ہم رکنے والے نہیں ہیں‘

جمعے کو یوکرین کے شہر اوڈیسا میں پرتشدد کارروائیوں کے دوران ایک سرکاری عمارت میں آگ لگ جانے کے باعث کم از کم 31 افراد ہلاک ہوئے گئے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب روس نواز مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہو رہی تھیں۔

آرسین اواکوو کا کہنا ہے کہ سنیچر کو یوکرین کی فوج نے کراماٹورسک میں ایک ٹیلی ویژن ٹاور کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے یہ علیحدگی پسندوں کے گڑھ سلوویانسک سے 17 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

اواکوو نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے ’ہم رکنے والے نہیں ہیں۔‘

یوکرین کے مشرقی شہر دونیتسک میں بی بی سی کی سارہ رینسفورڈ کا کہنا ہے کہ بظاہر یوکرین کی فوج سلوویانسک کے نواحی علاقوں میں حملے کر رہی ہے لیکن ابھی تک اس نے مرکز میں جانے کی کوشش نہیں کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وزارت دفاع نے گذشتہ رات کہا تھا کہ آندریوکا میں زبردست جنگ جاری ہے۔ یہ سلوویانسک سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

مشرقی یوکرین میں روس حامی فوجیوں نے گذشتہ دنوں ایک بس پر سوار یورپی مبصرین کو اغوا کر کے یرغمال بنا لیا تھا۔

ان مبصرین کا تعلق جرمنی، پولینڈ، سویڈن، ڈنمارک اور چیک جمہوریہ سے ہے۔

جمعے کو امریکی صدر براک اوباما نے مبصرین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور ان کے اغوا کو ’ناقابل معافی‘ اور ’شرمناک‘ قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں