یوکرین:روس نواز علیحدگی پسندوں پر حملے کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوکرین کے فوجیوں نے روس نواز علیحدگی پسندوں کے گڑھ کو جانے والی شاہراہ کو روک دیا ہے

یوکرین کے مشرقی شہر سلوویانسک میں لوگوں کا کہنا ہے کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے روس نواز علیحدگی پسندوں کے گڑھ پر حملے کا اندیشہ بڑھتا جا رہا ہے۔

اتوار کو یوکرین کی فوج نے شہر کو جانے والی شاہراہ کو منقطع کر دیا ہے تاکہ باغیوں کے خلاف اپنی پکڑ مضبوط کرسکے۔

سلوویانسک میں موجود ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے مکین اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس شہر پر زبردست حملہ ہوگا۔

گذشتہ ہفتے باغیوں نے شہر کے نواحی علاقے میں یوکرین کے دو ہیلی کاپٹروں کو مار گرایا تھا۔

سلوویانسک میں ایک صحافی ہیریئٹ سالم نے کہا کہ شہر میں روس حامی جنگجوؤں کو زبردست حمایت حاصل ہے۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ شہریوں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ کیئف شہر کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کرے گا۔

فی الحال یوکرین کی فوج کیئف کے مطابق ’دہشت گردی مخالف آپریشن کر رہی ہے تاکہ وہ مشرقی شہروں میں سرکاری عمارتوں کو روس نواز علیحدگی پسندوں سے حاصل کر سکے۔

دوسری جانب جنوبی شہر اوڈیسہ میں روسی نواز کارکنوں نے پولیس کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بول کر دو دن پہلے کیے گئے تشدد کے الزام میں زیرِ حراست متعدد افراد کو زبردستی رہا کرا دیا ہے۔

جعمہ کو ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد روس کے حمائتی تھے اور وہ اس وقت ہلاک ہوئے جب اُس عمارت میں آگ بڑھک اٹھی جس میں وہ محصور تھے۔

اتوار کو روسی نواز افراد نے اوڈیسہ شہر میں پولیس کے ہیڈ کوائٹر پر دھاوا بول دیا تھا۔پولیس کے صدر دفتر کے باہر جمع سینکڑوں افراد نے ابتدا میں پرامن طریقے سے جمعہ کو ہونے والے پرتشدد واقعات میں گرفتار ہونے والے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مظاہرین اس وقت تشدد پر اتر ائے جب ان میں بعض مسلح اور ماسک پہنے افراد نے عمارت کے کھڑکھیوں کے شیشے توڑ دیے اور گیٹ کے اندر زبردستی داخل ہوئے۔

وہ ’روس، روس‘ کے نعرے بازی کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ وہ’اپنے ساتھیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس کے بعد ہجوم کو مطمئن کرنے کے لیے پولیس نے زیرِ حراست متعدد افراد کو رہا کر دیا۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے پولیس ذرائع کے حوالے سے رہا ہونے والوں کی تعداد 30 بتائی ہے جبکہ خبر رساں ادارے اے پی نے وزارتِ داخلہ کے ایک بیان کے حوالے سے رہائی پانے والوں کی تعداد 67 بتائی ہے۔

اس سے پہلے یوکرین کے عبوری وزیر اعظم نے پولیس پر تشدد کے واقعات کو روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا تھا۔

آرسین اواکوو نے جو اوڈیسہ میں موجود تھے تحقیقات کا حکم دیا اور حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے تشدد کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا اور نااہلی کا ثبوت دیا اور قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ملک میں پائی جانے والی بدامنی روس کی پیدا کردہ ہے جو یوکرین کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔

انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ روس اوڈیسہ میں بھی وہی کرنا چاہتا جو ملک کے دوسرے حصوں میں ہوا جہاں پر روس کے حامی لوگوں نے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوکرین کے عبوری وزیر اعظم نے پولیس پر تشدد کے واقعات کو روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا

جمعے کو یوکرین کے شہر اوڈیسہ میں پرتشدد کارروائیوں کے دوران ایک سرکاری عمارت میں آگ لگ جانے کے باعث کم از کم 31 افراد ہلاک ہوئے گئے تھے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب روس نواز مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہو رہی تھیں۔

آرسین اواکوو کا کہنا تھا کہ سنیچر کو یوکرین کی فوج نے کراماٹورسک میں ایک ٹیلی ویژن ٹاور کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے یہ علیحدگی پسندوں کے گڑھ سلوویانسک سے 17 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

یوکرین کے مشرقی شہر دونیتسک میں بی بی سی کی سارہ رینسفورڈ کا کہنا تھا کہ بظاہر یوکرین کی فوج سلوویانسک کے نواحی علاقوں میں حملے کر رہی ہے لیکن ابھی تک اس نے مرکز میں جانے کی کوشش نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں