بی بی سی نے مجھے آخری وارننگ دی ہے: کلارکسن

Image caption کلارکسن اس سے قبل برما میں شوٹ کیے جانے والے پروگرام کے دوران بھی اپنے بیان سے تنازعے میں الجھ گئے تھے

بی بی سی کے معروف پروگرام ’ٹاپ گیئر‘ کے میزبان جیرمی کلارکسن نے کہا ہے کہ بی بی سی نے ان سے کہا ہے کہ اگر انھوں نے کہیں بھی کسی بھی وقت مزید ایک بھی توہین آمیز بیان دیا تو انھیں برطرف کر دیا جائے گا۔

’دی سن‘ اخبار میں لکھتے ہوئے کلارکسن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انھوں نے نرسری کا معروف گیت ’اینی مینی مائنی مو‘ پڑھتے وقت کسی بھی نسل پرستانہ لفظ کا استعمال نہیں کیا۔

کلارکسن نے اپنے پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران مینہ طور پر ایک توہین آمیز لفظ استعمال کیا تھا تاہم اسے نشر نہیں کیا گیا تھا۔ مگر اس پروگرام کی ریکارڈنگ حاصل کر کے اخبار ڈیلی مرر نے یہ خبر شائع کر دی۔

ہرچند کہ انھوں نے یہ لفظ منھ ہی منھ میں بڑبڑایا تھا لیکن انھوں نے ’این‘ سے شروع ہونے والا نسل پرستانہ لفظ ادا نہیں کیا تھا۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ ’اس سے انھیں کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ ہم اس بابت کس قدر سنجیدہ ہیں۔‘

جمعرات کو ڈیلی مرر نے کلارکسن پر شروع میں ’این لفظ‘ کے استعمال کے لیے الزام لگایا گیا تھا اور کہا تھا کہ انھوں نے آڈیو کی جانچ کرنے والے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ کلارکسن کے اس کلپ کا تجزیہ کیا جا سکے۔

کلارکسن نے شروع میں اپنے 33 لاکھ فالوورز کو ٹوئٹر پر کہا تھا: ’میں نے این لفظ کا استعمال نہیں کیا ہے۔ مرر اس بار حد سے تجاوز کر گیا ہے۔‘

بعد میں جب اخبار نے اس کلپ کو اپ لوڈ کیا جو کہ سنہ 2012 میں فلمایا گیا تھا اور کبھی بھی نشر نہیں ہوا تھا تو کلارکسن نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے غلطی کے لیے ’معافی‘ کی اپیل کی۔

اس بار انھوں نے اعتراف کیا کہ وہ توہین آمیز لفظ کا استعمال کرنا نہیں چاہتے تھے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ لکنت کا شکار ہو گئے ہیں۔

کلارکسن اخبار سن میں ہر ہفتے ایک کالم لکھتے ہیں جس میں انھوں نے لکھا: ’بی بی سی نے مجھ سے کہا ہے کہ اگر میں نے کہیں بھی کسی بھی وقت مزید ایک بھی توہین آمیز بیان دیا تو مجھے برطرف کر دیا جائے گا۔‘

انھوں نے مزید لکھا: ’میرے سر پر جو تلوار لٹک رہی ہے اس سے بچنے کے لیے فرشتہ جبرئیل کو بھی جدوجہد کرنی پڑے گی۔ یہ ناگزیر ہے اور ایک دن کہیں کوئی کہے گا کہ میں نے اس کی توہین کی ہے اور بات وہیں ختم ہو جائے گی۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بی بی سی نے ’پرزور انداز‘ میں ان سے معافی مانگنے کے لیے کہا ہے۔ بہر حال انھوں نے کہا کہ ’این لفظ کے استعمال کے لیے معافی مانگنا ایسا ہی جیسے شام میں جنگ شروع کرنے کے لیے معافی مانگنا۔ یہ ایسی چیز ہے جو میں نے کی ہی نہیں۔‘

Image caption جیرمی کلارکسن بی بی سی کے معروف پروگرم ٹاپ گیئر کے پریزنٹر ہیں

کلارکسن نے مزید کہا: ’میں ایف سے شروع ہونے والے لفظ کا بہت تواتر سے استعمال کرتا ہوں سی لفظ کا بھی اور بطور خاص جب میں جیمز مے کے بارے میں بات کر رہا ہوتا ہوں۔ لیکن این لفظ؟ نہیں یہ میری لغت کا حصہ نہیں ہے۔‘

انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈیلی مرر نے جس آڈیو ماہر کی خدمات حاصل کی ہیں انھوں نے ایل بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اس بارے میں صرف 75 فی صد تک ہی یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہیں کہ آیا اس لفظ کا استعمال ہوا ہے یا نہیں۔

ڈیجیٹل فورنسک کمپنی سی وائی فور او آر کی میشیل بومین نے نک فراری کو بتایا: ’آپ صد فی صد یقین سے نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ خالص سائنس نہیں ہے۔ اصولی طور پر آپ اس جملے کا کسی دوسرے جملے سے موازنہ کر سکتے ہیں جس میں یہ لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔‘

ہرچند کہ یہ کلپ بی بی سی ٹو پر کبھی بھی نشر نہیں کیا جا سکا تاہم میڈیا میں اس خبر کے آنے کے بعد 300 شکایات آ چکی ہیں۔ بی بی سی نے سنیچر کو کہا کہ اس بارے وہ پہلے دیے گئے بیان میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتے۔

اس سے قبل سنہ 2012 میں لندن میں بھارت کے ہائی کمیشن نے شکایت کی تھی کہ ’ٹاپ گیئر‘ نامی پروگرام کا بھارت میں کیا جانے والا شو توہین آمیز تھا۔

اس سے پہلے اپریل سنہ 2011 میں ٹاپ گیئر کے ایک پروگرام پر اس وقت تنقید کی گئی جب اس میں میکسیکو کے لوگوں کو سُست اور ناکارہ جبکہ میکسیکو کے کھانوں کو بدمزا قرار دیا گیا۔ تاہم اس پروگرام کو نشریات کے نگراں ادارے آف کوم نے الزمات سے بری کر دیا تھا۔

اسی بارے میں