’کیا آپ دو ایٹم بم لینا چاہیں گے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اپریل 1954 میں فرانسیسی فوج ڈیئن بیئن فو میں ہو چی منہ کی فوجوں سے لڑ رہی تھی اور ان کو سخت مزاحمت کا سامنا تھا

60 سال قبل اسی ہفتے ویتنام کے علاقے ڈیئن بیئن فو میں فرانسیسی فوج کو شکست ہوئی تھی۔ تاریخ دان جولیئن جیکسن کا کہنا ہے کہ یہ شکست فرانس اور ویتنام دونوں ممالک کے لیے اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس جنگ میں چند امریکی حکام نے ایٹمی ہتھیار بھی استعمال کرنے کے بارے میں سوچا تھا۔

فرانس کے ایک سینیئر سفارت کار کا کہنا ہے کہ اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جان فوسٹر ڈلس نے فرانسیسی ہم منصب جارج بیدو سے پوچھا ’کیا آپ دو ایٹم بم لینا چاہیں گے؟‘

یہ وہ وقت تھا جب اپریل 1954 میں فرانسیسی فوج ڈیئن بیئن فو میں ہو چی منہ کی فوجوں سے لڑ رہی تھی اور ان کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

سنہ 1953 میں فرانسیسی کمانڈر نے ہنوئی سے 280 میل کے فاصلے پر واقع ڈیئن بیئن فو کی وادی میں بیس بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ وادی جنگلات کے درمیان میں واقع تھی اور فرانسیسی کمانڈر کا خیال تھا کہ فوج اس بیس کا دفاع کر پائے گی۔

لیکن انھوں نے ویتنامیوں کی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ نہیں لگایا۔ ویتنامی مردوں، عورتوں اور بچوں نے دن رات اسلحہ اس علاقے میں پہنچایا۔ آخرکار 13 مارچ کو ویتنامی فوج نے گولہ باری شروع کی اور اس بیس کے گرد و نواح کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ فرانسیسی فوج محصور ہوگئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ویتنامی مرد، عورتوں اور بچوں نے دن رات اسلحہ اس علاقے میں پہنچایا

اس صورتِ حال میں فرانس نے امریکہ سے مدد کی اپیل کی۔ امریکی انتظامیہ میں نائب صدر رچرڈ نکسن اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے سربراہ ایڈمرل ریڈفورڈ اور وزیر خارجہ جان فوسٹر جنگ کے حق میں تھے۔

لیکن امریکی کانگریس کا کہنا تھا کہ وہ فوجیں بھیجنے کی اس وقت تک حمایت نہیں کریں گے جب تک برطانیہ بھی اپنی فوجیں ویتنام نہیں بھیجتا۔

یہ انھی دنوں کی بات ہے جب امریکی وزیر خارجہ نے مبینہ طور پر فرانس کو ایٹم بم کی پیشکش کی۔

لیکن نہ تو جان فوسٹر کو اس قسم کی پیشکش کرنے کا اختیار تھا اور نہ ہی کوئی ثبوت ہے کہ انھوں نے یہ پیشکش کی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جان فوسٹر کی بات کا ترجمہ غلط ہو گیا ہو یا کسی اور طرح سے سمجھا گیا ہو۔

سابق فرانسیسی وزیر خارجہ نے 1998 میں کہا تھا: ’جان فوسٹر نے یہ پیشکش نہیں کی تھی۔ انھوں نے تجویز دی اور سوال پوچھا۔ انھوں نے ’ایٹم بم‘ کا ذکر کیا تھا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے فوری طور پر اس تجویز کو غیر سنجیدہ ہونے کے باعث رد کر دیا۔‘

امریکی یونیورسٹی کورنیل کے پروفیسر فریڈ لوگویل کا کہنا ہے کہ جان فوسٹر نے کم از کم اس حوالے سے بات ضرور کی تھی کہ فرانسیسی قیادت ایک یا دو ایٹم بم دشمنوں کے خلاف استعمال کرنے کے بارے میں کیا سوچتی ہے۔

پروفیسر لوگویل کا کہنا کہ فرانسیسی وزیر خارجہ جارج بیدو نے اس تجویز کو رد کر دیا کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ یہ بم اگر ویتنامی فوجیوں پر پھینکا گیا تو پہاڑی کے اوپر بیس پر محصور فرانسیسی فوجی بھی مارے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’جان فوسٹر نے یہ پیشکش نہیں کی تھی۔ انھوں نے تجویز دی اور سوال پوچھا۔ انھوں نے ’ایٹم بم‘ کا ذکر کیا تھا‘

اسی بارے میں