کینیا میں زہرہلی شراب پینے سے 60 افراد ہلاک

Image caption کینیا میں کم قیمت کی وجہ سے دیسی شراب مقبول ہے

افریقی ملک کینیا میں حکام کا کہنا ہے کہ دیسی شراب پینے سے کم از کم 60 افراد ہلاک اور درجنوں بینائی سے محروم ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ہو سکتا ہے کہ شراب میں صعنتوں کے لیے تیار کردہ سپرٹ متیھانول کا استعمال کیا گیا ہو۔

یہ سپرٹ نشہ بڑھانے کے لیےاستعمال کیا جاتا ہے اور اس طرح کی شراب پینے کے نتیجے میں گردوں کا ناکارہ ہونا، نابینا ہونے اور موت کا خطرہ ہوتا ہے۔

اتوار سے اب تک کینیا کے چار علاقوں ایمبو، کیٹوئی، لیمورو اور کیمبو میں 60 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔

حکام کے مطابق ہو سکتا ہے کہ ان علاقوں میں شراب ایک ہی جگہ سے فروخت کے لیے بھیجی گئی ہو۔

کینیا میں گھریو سطح پر تیار کردہ دیسی شراب مقبول ہے کیونکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی قوت خرید اتنی نہیں کہ وہ معیاری شراب خرید سکیں۔

کینیا میں اس سے پہلے سال 2005 میں زہریلی شراب پینے کے نتیجے میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دنیا کے دیگر کئی ممالک کی طرح بھارت اور پاکستان میں بھی غیر معیاری دیسی شراب پینے کے نتیجے میں ہلاکتوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔