اختیارات سے تجاوز، تھائی وزیراعظم عدالت میں

تھائی لینڈ کی وزیراعظم ینگ لک شناواترا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ینگ لک شناواترا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اصل میں حکومت وہ نہیں بلکہ ان کے جلاوطن بھائی تھاکسین چلا رہے ہیں

تھائی لینڈ کی وزیراعظم ینگ لک شناواترا بنکاک کی ایک عدالت میں اپنا دفاع کر رہی ہیں۔ ان پر اختیارات سے تجاوز یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے۔

تھائی لینڈ کی آئینی عدالت میں سینیٹروں نے یہ شکایت دائر کی تھی کہ 2011 میں شناواترا نے نیشنل سکیورٹی کے سربراہ کو تبدیل کرنے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا تھا اس سے ان کی پارٹی کو فوائد حاصل ہوئے تھے۔

اگر ینگ لک شناواترا پر یہ الزام ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں نہ صرف وزارتِ عظمیٰ سے ہٹایا جا سکتا ہے بلکہ پانچ سال کے لیے سیاست سے بھی باہر کیا جا سکتا ہے۔

عدالت معاملے کی سماعت کر چکی ہے اور فیصلہ بدھ کو متوقع ہے۔

وزیراعظم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ کی اعلیٰ عدالتیں ینگ لنک شناواترا کے بارے میں متعصبانہ روّیہ رکھتی ہیں اور اس سارے معاملے کا مقصد یہ ہے کہ اشرافیہ انھیں وزارتِ عظمیٰ سے ہٹانا چاہتی ہے۔

بنکاک سے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ عدالت وزیر اعظم کی برطرفی کے ساتھ ساتھ ان کی کابینہ پر بھی پابندی لگا سکتی ہے، اور اگر ایسا کیا گیا تو ان کی پارٹی نگراں حکومت کے اختیار سے بھی محروم ہو جائے گی۔

ان کے وزرا نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو اس سے بحران پیدا ہو جائے گا اور حکومت کے حامی ’ریڈ شرٹش‘ کے جانب سے یقیناً وسیع پیمانے پر مظاہرے شروع ہو جائیں گے۔

موجودہ وزیرِاعظم کے بھائی تھاکسین شیناوترا کو فوج نے 2006 میں معزول کر دیا تھا۔ بعض حلقے یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ اصل میں اس وقت بھی حکومت تھاکسین شیناوترا ہی چلا رہے ہیں۔ تھاکسین شیناوترا ان دنوں خود ساختہ جلا وطنی کاٹ رہے ہیں۔

اسی بارے میں