شدت پسند تنظیم بوکوحرام کیسے وجود میں آئی

Image caption ویڈیو سے لی گئی اس تصویر میں بوکو حرام کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ دعویٰ کر رہے ہیں کہ لڑکیوں کو انھوں نے اغوا کیا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے نائجیریا میں طالبات کے اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس اغوا کی وجہ سے بین الاقوامی برادری بوکو حرام کے خلاف حرکت میں آ جائے گی۔

یہاں سوال اٹھتا ہے کہ آخر کس طرح بوکوحرام گروپ ایک خطرناک شدت پسند تنظیم میں تبدیل ہو گیا۔

بوکوحرام تنظیم نے چھوٹے پیمانے پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا جس میں حملے کر کے فرار ہونا شامل تھا۔ اپنے مخالفین کو سفاک انداز میں ہلاک کرنے کی زیادہ تر کارروائیوں میں موٹر سائیکل کا استعمال کیا جاتا تھا۔

بوکو حرام کے رہنما کی ’خفیہ‘ زندگی

ان کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر لوگ نمایاں اسلامی رہنما شامل تھے۔ جب یہ گروپ زیادہ بے خوف ہوا تو اس نے گرجا گھروں، پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے کرنا شروع کر دیے۔

اس نے بڑے حملوں میں نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں اقوام متحدہ کے دفتر اور وفاقی پولیس کے مرکزی دفتر کو نشانہ بنایا۔

بوکوحرام تنظیم نے شمالی نائجیریا میں پولیس کے متعدد تھانوں اور فوجی بیرکوں پر حملے کیے اور وہاں سے ہتھیار، گاڑیاں اور وردیاں لوٹ کر لے گئے۔ لوٹی گئیں گاڑیوں اور وردیوں سے اس کے کارکنوں نے بھیس بدل کر اور زیادہ تباہی پھیلائی۔ اس کے علاوہ انھوں نے کئی بینکوں پر حملے کیے اور ان میں سے بعض دن دیہاڑے کیے گئے۔ کئی بینکوں سے لاکھوں نائرا (مقامی کرنسی) لوٹے جانے کی اطلاعات بھی ملیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بوکو حرام کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ طالبات کے اغوا پر اس قدر شدید بین الاقوامی ردِ عمل آئے گا

اس کے بعد فوج نے مقامی نوجوانوں کی مدد سے میدوگری کے علاقے سے بوکوحرام کی محفوظ پناہ کو ختم کر دیا۔

نوجوانوں کی اس مقبول ٹیم کو اب سویلین جوائنٹ فورس کہا جاتا ہے۔ بوکوحرام نے اس نقصان کے بعد مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت عام شہریوں کو نقصان پہنچانے پر توجہ مرکوز کر لی۔ اس نے کئی دیہات کو نذرِ آتش کر دیا اور اس میں 15 سو کے قریب لوگ مارے گئے۔

اس کے علاوہ ان حملوں میں سکولوں کو بھی نشانہ بنایا گیا لیکن ان حملوں میں صرف طلبہ کو ہلاک کیا جاتا اور طالبات کو چھوڑ دیا جاتا تھا، لیکن اب حال ہی بوکو حرام نے طالبات کو اغوا کرنا شروع کر دیا ہے۔ شاید اس تنظیم کے ارکان کو اندازہ نہیں کہ دنیا اس کو کس طرح سے دیکھ رہی ہے۔

ابھی تک نائجیریا کی حکومت ان طالبات کو تلاش نہیں کر سکی ہے۔ اس سے پہلے تنظیم کے رہنماؤں نے حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ان کی خواتین کو بغیر عدالتی کارروائی کے قید کر رکھا ہے۔

بوکوحرام کی شناخت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بوکو حرام کے جنگجو اس سال اپنی کارروائیوں میں سینکڑوں افراد کو ہلاک کر چکے ہیں

بوکوحرام اسلام کے ایسے سخت گیر نظریے کی پیروی کرتا ہے جو مسلمانوں کو کسی بھی قسم کی مغربی طرز کی سیاسی یا معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے منع کرتا ہے۔ اس میں انتخابات میں حصہ لینا، ٹی شرٹیں پہنا یا سیکولر تعلیم حاصل کرنا بھی شامل ہیں۔

اس طرزِ عمل کی تاریخ ایک صدی سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ 19ویں صدی میں شمالی نائجیریا، نائجر اور جنوبی کیمرون پر سوٹوکو خلافت کی حکومت تھی۔ 1903 میں برطانیہ نے سوکوٹو خلافت کو شکست دے کر ان علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ مغربی تعلیم کے خلاف مہم اسی وقت سے جاری ہے۔

بہت سے مسلمان اپنے بچوں کو مغربی طرز کے سرکاری سکولوں میں نہیں بھیجتے۔ ان حالات میں ایک مسلم مذہبی عالم محمد یوسف نے میدوگری کے شہر میں سنہ 2002 میں بوکوحرام کی بنیاد رکھی۔ اس کا لفظی مطلب ’مغربی تعلیم حرام‘ ہے۔ انھوں نے ایک مسجد بنائی جس کے احاطے میں ایک مدرسہ بھی قائم کیا۔

نائجیریا اور ہمسایہ ممالک کے بہت سے غریب خاندانوں نے اپنے بچوں کو اس مدرسے میں بھیجنا شروع کر دیا۔

لیکن بوکوحرام کی دلچسپی صرف تعلیم تک محدود نہیں تھی۔ ان کا سیاسی ہدف ایک اسلامی ریاست کا قیام تھا اور یہ مدرسہ حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے جہادیوں کو بھرتی کرنے کا مرکز بن گیا۔

سنہ 2009 میں بوکوحرام نے میدوگری میں پولیس سٹیشنوں اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے اور اس شہر میں ہنگامے ہونے لگے۔ بوکوحرام کے سینکڑوں حمایتی ہلاک ہوئے جبکہ ہزاروں شہری شہر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بوکو حرام نائجیریا کے شہری علاقوں پر حملوں میں ملوث رہی ہے

حکومتی فورسز نے بالآخر بوکوحرام کے مرکزی دفاتر پر قبضہ کر کے اس کے جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا، جبکہ محمد یوسف ہلاک کر دیے گئے۔ اس موقعے پر حکومت نے بوکوحرام کے خاتمے کا بھی اعلان کر دیا۔

لیکن بوکوحرام کے جنگجو جلد ہی ایک نئے سربراہ ابوبکر شیکاؤ کے جھنڈے تلے اکٹھے ہو گئے۔ سنہ 2010 میں انھوں نے میدوگری میں ایک سرکاری جیل پر حملہ کر کے اپنے سینکڑوں ساتھیوں کو رہا کروا لیا۔

ابوبکر شیکاؤ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک تنہائی پسند اور نڈر انسان ہیں اور پیچیدہ شخصیت کے مالک ہیں۔

گذشتہ دنوں طالبات کے اغوا کے بعد ابوبکر شیکاؤ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بھیجی جانے والی ایک ویڈیو میں سینکڑوں طالبات کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول یہ اصرار کیا تھا کہ لڑکیوں کو سکول جانا ہی نہیں چاہیے، اور سکول بھیجنے کی بجائے ان کی شادیاں کروا دینی چاہییں۔

اسی بارے میں