نائجیریا:مغوی لڑکیوں کی تلاش میں مدد پر تین لاکھ ڈالر انعام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان لڑکیوں کی بازیابی کے لیے مظاہرے بھی کیے گئے ہیں

افریقی ملک نائجیریا میں پولیس نے دو سو سے زائد مغوی لڑکیوں کی تلاش اور بازیابی میں مدد دینے والے شخص کے لیے تین لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔

ان 230 سے زیادہ لڑکیوں کو تین ہفتے قبل ملک کے شمالی علاقے بورنو سے اغوا کیا گیا تھا اور اس واقعے کی ذمہ دار اسلامی شدت پسند گروپ بوکوحرام نے قبول کی ہے۔

نائجیریا: مغوی طالبات کو بیچنے کی دھمکی

شدت پسندوں کے ہاتھوں اغوا طالبات کی رہائی کے لیے مظاہرہ

بوکوحرام کی جانب سے ذمہ داری قبول کیے جانے کے بعد اتوار کی شب لڑکیوں کے اغوا کا ایک اور واقعہ بھی پیش آیا ہے جس میں 11 لڑکیوں کو اغوا کیا گیا ہے۔

بدھ کو ایک بیان میں نائجیرین پولیس نے کہا ہے کہ تین لاکھ ڈالر کا انعام اسے ملے گا جو ’ایسی اطلاعات فراہم کر سکے جس سے لڑکیوں کے مقام کی نشاندہی اور ان کے بچاؤ کے بارے میں کارروائی ہو سکے۔‘

ادھر امریکہ نے اپنے ماہرین کی ایک ٹیم نائجیریا بھیجنے کا اعلان کیا جو وہاں مغوی لڑکیوں کی بازیابی کی کوششوں میں مدد دے گی۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن کی جانب سے امریکی مدد کی پیشکش قبول کرنے کے بعد دارالحکومت ابوجا میں واقع امریکی سفارت خانے میں ایک خصوصی سیل قائم کیا جا رہا ہے۔

اس سیل میں امریکی فوج کے اہلکار، قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور اغوا کاروں سے مذاکرات کرنے والے ماہرین شامل ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی کہ اس اغوا کی وجہ سے شاید بین الاقوامی برادری بوکو حرام کے خلاف حرکت میں آ جائے۔

پیر کو بوکو حرام کے سربراہ نے ان 230 سے زیادہ مغوی لڑکیوں کو ’بیچنے‘ کی دھمکی دی تھی جنھیں بورنو کے ایک سکول سے 14 اپریل کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

صدر براک اوباما نے کہا کہ ’ہم نے پہلے ہی سے نائجیریا میں ایک ٹیم بھیج دی ہے جو فوجی، قانون نافذ کرنے والے اور دیگر ایجنسیوں کے ارکان پر مشتمل ہے جو ان لڑکیوں کو تلاش کرنے جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے لڑکیوں کے اغوا کو ’دل دہلا دینے والا‘ اور اشتعال انگیز‘ واقعہ قرار دیتے ہوئے بوکر حرام کو ’خطے کی بدترین دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شاید یہ واقعہ ایسا ہو جس کی وجہ سے بین الاقوامی برادری کو اس گھناؤنے جرم کی مرتکب ہولناک تنظیم کے خلاف کارروائی کرنا پڑے۔‘

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پہلے اغوا کی گئیں لڑکیاں شاید پہلے ہی سے چاڈ اور کیمرون سمگل ہو چکی ہوں۔

نائجیریا کی چاڈ اور کیمرون کی سرحدوں کے راستے لوگ باآسانی آ جا سکتے ہیں تاہم کیمرون اور چاڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں کہ لڑکیاں ان کے ملک میں ہیں۔

ان لڑکیوں کی بازیابی کے لیے نائجیریا میں مظاہرے بھی کیے گئے ہیں اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے لیکن اس سلسلے میں حکومتی کوششیں ابھی تک ناکام رہی ہیں۔

اسی بارے میں