ریاض: ٹریفک حادثے میں خاتون ڈرائیور ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ twitter.com Saudiwoman
Image caption سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر پابندی عائد ہے

سعودی عرب میں جمعرات کو پیش آنے والے ایک ٹریفک حادثے میں خاتون ڈرائیور ہلاک ہوگئی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سعودی عرب کے مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذکورہ خاتون ملک میں خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دارالحکومت ریاض میں گاڑی چلا رہی تھیں۔

سعودی کے مقامی روزنامے الجزیرہ کے مطابق 20 سالہ خاتون اپنی گاڑی پر قابو نہ رکھ سکیں اور وہ ایک یوتھ کلب کی دیوار سے ٹکرا گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ٹکراؤ کی وجہ سے کار میں آگ بھڑک اٹھی اور خاتون ڈرائیور موقع پر ہی ہلاک ہوگئیں۔

یہ سعودی عرب میں کسی ٹریفک حادثے میں خاتون ڈرائیور کی ہلاکت کا پہلا واقعہ نہیں۔

اس سے قبل نومبر 2010 میں بھی ایک خاتون اپنی تین ساتھیوں کے ہمراہ اسی طرح کے حادثے میں ہلاک ہوئی تھیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر پابندی عائد ہے تاہم خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم گروپ اس پابندی کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

یہ پابندی قانون کا حصہ نہیں تاہم معاشرتی اور تہذیبی طور پر سعودی عرب میں اس عمل کی اجازت نہیں ہے جس کی وجہ سے خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا نہیں کیا جاتا اور اس بنا پر انہیں ڈرائیونگ کرنے پر گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔

خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی پر عمل پولیس کے ذریعے کروایا جاتا ہے جس میں جرمانہ اور گرفتاریاں شامل ہیں۔ سعودی عرب میں صرف مردوں کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جاتے ہیں۔

سعودی عرب میں گذشتہ سال خواتین کی ڈرائیونگ کے حق میں کام کرنے والی تنظیم ’وومن ٹو ڈرائیو‘ نے مہم چلائی تھی جس میں خواتین پر زور دیا گیا تھا کہ وہ پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر گاڑی چلائیں۔

اسی بارے میں