شام: حلب دھماکے سے متعدد عمارات تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ابتدائی اطلاعات کے مطابق حلب دھماکے میں ہوٹل کو شدید نقصان پہنچا ہے

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے شمالی شہر حلب میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں ایک ہوٹل سمیت متعدد عمارات تباہ ہو گئی ہیں۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ باغی جنگجوؤں نے کارلٹن سِٹاڈل ہوٹل کے نیچے سرنگ میں ایک بم نصب کیا تھا۔

شام کی حزبِ مخالف کا کہنا ہے کہ جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں سرکاری افوج رہائش پذیر ہیں اور دھماکے میں متعدد سپاہی ہلاک ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران باغی افواج ان علاقوں کی جانب بڑھ رہی ہیں جہاں حکومتی افواج مورچہ زن ہیں جب کہ باغیوں کے زیرِ اثر علاقے حلب میں شامی فوج کی جانب سے شدید بمباری کی جا رہی ہے۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی سانا کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردوں‘ نے حلب کے پرانے شہر میں سرنگیں کھود کر آثارِ قدیمہ کو اڑا دیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حلب دھماکے میں ہوٹل کو شدید نقصان پہنچا۔

کارلٹن سٹاڈل ہوٹل 150 برس پرانی عمارت میں واقع ہے اور اس کا مرکزی دروازہ 13 ویں صدی کے قلعے کے دروازے کے سامنے ہے۔ سٹاڈل قلعے کا شمار یونیسکو کے بین الاقوامی ورثے میں کیا جاتا ہے۔

بشار الاسد مخالف سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس اور شامی حزبِ مخالف شام نیوز نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ یہ قلعہ شامی افواج کے زیرِ استعمال تھا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اسلامک فرنٹ نے کارلٹن سٹاڈل ہوٹل کے نیچے سرنگ میں بم نصب کرنے کے بعد اسے اڑا دیا جس کے نتیجے میں ہوٹل کے قریب متعدد عمارات منہدم ہو گئیں۔

سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ دھماکے سے شامی افواج کے متعدد سکیورٹی اہل کار ہلاک ہو گئے۔

دوسری جانب شام کے دوسرے شہر حمص سے باغیوں کا انخلا جاری ہے۔

بدھ کو تقریباً 1,000 باغی جنگجو اور ان کے رشتے داروں بسوں کے ذریعے حمص سے انخلا کر گئے تھے۔

رواں برس کے شروع میں اقوامِ متحدہ اور ہلالِ احمر کی نگرانی میں ہونے والے ایک آپریشن میں 1,400 افراد کو پرانے شہر سے نکالا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری جنگ میں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 17 لاکھ سے زیادہ افراد پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو‌ئے ہیں۔

اسی بارے میں