’بوکوحرام سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پہلے اغوا کی گئیں لڑکیاں شاید پہلے ہی سے چاڈ اور کیمرون سمگل ہو چکی ہوں

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکی ماہرین کی ٹیم نائجیریا میں مغوی طالبات کی بازیابی کے لیے کام شروع کر رہی ہے۔

دوسری جانب نائجیریا کے صدرگڈلک جوناتھن نے امید ظاہر کی ہے کہ شدت پسند تنظیم بوکوحرام کے خلاف جنگ نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔

نائجیریا میں 230 سے زیادہ لڑکیوں کو تین ہفتے قبل ملک کے شمالی علاقے بورنو سے اغوا کیا گیا تھا اور اس واقعے کی ذمہ دار اسلامی شدت پسند گروپ بوکوحرام نے قبول کی ہے۔

نائجیریا: مغوی طالبات کو بیچنے کی دھمکی

شدت پسندوں کے ہاتھوں اغوا طالبات کی رہائی کے لیے مظاہرہ

لڑکیوں کی بازیابی کے لیے نائجیریا میں مظاہرے بھی کیے گئے ہیں اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے لیکن اس سلسلے میں حکومتی کوششیں ابھی تک ناکام رہی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے مطابق ایک انٹر ایجنسی ٹیم نائجیریا پہنچ رہی ہے اور وہ صدر گڈلک جوناتھن کی حکومت کے ساتھ مل کر ہر ممکن طریقے سے لڑکیوں کو واپس لانے کے لیے کام کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان لڑکیوں کی بازیابی کے لیے مظاہرے بھی کیے گئے ہیں

انھوں نے مزید کہا کہ بوکوحرام سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے جا رہے ہیں۔

نائجیریا کے صدر جوناتھن نے دارالحکومت ابوجا میں منعقدہ ورلڈ اکناملک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کے اغوا کا واقعہ بوکوحرام کے خلاف جنگ میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

’میرے خیال میں لڑکیوں کا اغوا نائجیریا میں دہشت گردی کے خاتمے کی ابتدا ہے۔‘

انھوں نے اس موقعے پر چین، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے مدد کی پیشکشوں کا شکریہ ادا کیا۔

نائجیریا میں پولیس نے مغوی لڑکیوں کی تلاش اور بازیابی میں مدد دینے والوں کے لیے تین لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی تھی کہ اس اغوا کی وجہ سے شاید بین الاقوامی برادری بوکو حرام کے خلاف حرکت میں آ جائے۔

صدر براک اوباما نے لڑکیوں کے اغوا کو ’دل دہلا دینے والا‘ اور اشتعال انگیز‘ واقعہ قرار دیتے ہوئے بوکر حرام کو ’خطے کی بدترین دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مغوی لڑکیاں شاید پہلے ہی سے چاڈ اور کیمرون سمگل ہو چکی ہوں۔

نائجیریا کی چاڈ اور کیمرون کی سرحدوں کے راستے لوگ باآسانی آ جا سکتے ہیں تاہم کیمرون اور چاڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ لڑکیاں ان کے ملک میں نہیں ہیں۔

اسی بارے میں