’اٹلی نہ آنا، بھوکوں مرو گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اینجلو سیوکا ویڈیو کو انگولا، سری لنکا اور پاکستان میں ہر جگہ پھیلانا چاہتے ہیں

میرے ہم وطنوں اٹلی مت آنا، تم بھوکوں مرو گے۔

کیمرے کی آنکھ میں آنکھیں ڈالتے ہوئے یہ الفاظ ہیں انگولا سے اٹلی آئے ہوئے جوان ہوزے کے۔

ہوزے کے بعد سری لنکا سے آئے ہوئے روشن کیمرے کے سامنے آتے ہیں اور بڑی سنجیدگی سے کہتے ہیں :’ یہ ملک شدید مشکل میں ہے اور یہاں تارکین وطن بھی مشکل کا شکار ہیں۔‘

روشن کے بعد پاکستان سے اٹلی ہجرت کرنے والی نیمل کی باری تھی اور انھوں نے بھی دوسرے دو تارکین وطن کی طرح یہی کہا کہ ’اٹلی میں غیر قانونی طور پر آنے کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ کو بھوک اور بے بسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

ان تینوں افراد کی یہ گفتگو ایک ویڈیو کا حصہ ہے جس میں تینوں نے یہ پیغام اپنی اپنی مادری زبان میں ریکارڈ کرایا ہے۔ ویڈیو کے آن لائن آنے کے بعد اٹلی میں ہر کوئی اس پر بات کر رہا ہے۔

مذکورہ ویڈیو دراصل اٹلی میں دائیں بازو کی جماعت ’ناردرن لیگ‘ کے ایک امیدوار کی انتخابی مہم کا حصہ ہے جو یورپی یونین کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان کی جماعت یورپ کی دیگر دائیں بازو کی جماعتوں کی طرح امیگریشن کے خلاف ہے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے انتخابی امیدوار اینجلو سیوکا کا کہنا تھا کہ تینوں تارکین وطن نے اس ویڈیو میں اپنی مرضی سے حصہ لیا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں دیے جانے والے پیغامات امیدواروں نے نہیں لکھے بلکہ یہ خود ان کی تخلیق ہیں۔

اینجلو سیوکا چاہتے ہیں کہ یہ ویڈیو ان تینوں تارکین وطن کے ملکوں یعنی انگولا، سری لنکا اور پاکستان میں ہر جگہ پھیل جائے تا کہ لوگ اٹلی آنے سے باز رہیں۔ تاہم اینجلو سیوکا تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی ویڈیو انھیں اطالوی لوگوں کے زیادہ سے زیادہ ووٹ لینے میں بھی مددگار ثابت ہو گی۔

گذشتہ چند ماہ کے دوران اٹلی کی جنوبی بندرگاہ کے راستے آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس ویڈیو سے پہلے یورپی پارلیمان کے انتخابات کے سلسلے میں جاری مہم میں امیگریشن کے مسئلے پر ملک میں زیادہ کھُل کے بات نہیں ہوئی تھی۔

شاید اسی لیے ناردرن لیگ نے ایک مرتبہ پھر یہی حربہ استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی یہ جماعت تارکین وطن کے خلاف پیغامات کے ذریعے اطالوی رائے دہندگان کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس ہفتے اطالوی بحریہ 4300 سے زائد مردوں، عورتوں اور بچوں کو سمندر میں ڈوبنے سے بچا چکی ہے

مذکورہ ویڈیو کے علاوہ ناردرن لیگ کے سربراہ متًیو سالوینی نے مطالبہ کیا ہے کہ اٹلی کی بحریہ اپنے سمندروں میں حادثات کا شکار ہونے والی تارکین وطن کی کشتیوں کو بچانا چھوڑ دے۔

واضح رہے کہ شمالی افریقہ سے اٹلی پہنچنے کےخواہشمند افراد اکثر ٹوٹی پھوٹی کشتیوں کا سہارا لیتے ہیں جو سمندر میں حادثوں کا شکار ہو جاتی ہیں اور اطالوی نیوی کے جہاز ان لوگوں کو ڈوبنے سے بچاتے ہیں۔ مسٹر سالوینی کا کہنا ہے کہ نیوی کے اس آپریشن کی وجہ سے تارکین وطن کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

کئی تـجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امیگریشن کے خلاف مہم سے ناردرن لیگ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور جماعت ان لوگوں کے ووٹ لینے میں کامیاب ہو سکتی ہے جو تارکین وطن کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

تاہم ابھی تک یہی لگتا ہے کہ مذکورہ ویڈیو کا تارکین وطن پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے کیونکہ اس ہفتے کے دوران بھی اطالوی بحریہ 4300 سے زائد مردوں، عورتوں اور بچوں کو سمندر میں ڈوبنے سے بچا چکی ہے جو کسی طرح اٹلی پہنچنا چاہتے تھے۔

اسی بارے میں