ایک گولی صبح، دوپہر، شام

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption برطانیہ میں ہر چھ میں سے ایک شخص ’عملی طور پر ناخواندہ‘ ہے

پاکستان کےدوسرے بڑے شہر لاہور کے ایک ہسپتال میں مریضوں کو یہ بتانے کے لیے کہ انھوں نے دوا کب لینی ہے، تصویروں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ان سادہ تصاویر میں صبح کی علامت کے طور پر پہاڑوں کے پیچھے سے سورج کو طلوع ہوتے دکھاگیا ہے جبکہ یہ یاد رکھنے کے لیے کہ دوا رات کو بھی لینی ہے، دوسری تصویر میں چاند اور تارے دکھائےگئے ہیں۔

اس ہسپتال میں آنے والے والے مریضوں میں سے نصف ایسے ہیں جن کے لیے دوا کی بوتل پر لکھی ہوئی ہدایات بالکل بے معنی ہیں کیونکہ وہ پڑھ لکھ نہیں سکتے۔

کیا برطانیہ میں بھی ہم یہ طریقہ اپنا سکتے ہیں کیونکہ اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں ہر چھ میں سے ایک شخص ایسا ہے جسے ہم ’عملی طور پر ناخواندہ‘ کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ جی سی ایس سی (او لیول) کا انگریزی کا امتحان پاس نہیں کر سکتا۔

دوا کی غلط خوراک لینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے مریض کی زندگی کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

برطانیہ میں مریضوں کی بہتری کے لیے کام کرنے والے خیراتی ادارے ’پیشنٹس ایسوی ایشن‘ کا کہنا ہے کہ انھیں کئی مریض روزانہ یہ پوچھنے کے لیے ٹیلیفون کرتے ہیں کہ آیا انھوں نے دوا کی درست خوراک لی ہے یا نہیں اور کیا انہوں نے ٹھیک وقت پر دوا لی یا نہیں۔

ایوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر مائیک سمتھ کہتے ہیں کہ مریضوں کے تحفظ کے لیے اہم ہے کہ دوا کی بوتل پر لگے ہوئے لیبل درست ہوں اور وہ انھیں پوری طرح سمجھ سکیں۔

’ایسے بڑی عمر کے بے شمار مریض ہیں جنھیں بوتل یا دوا کے رنگین پیکٹ پر لکھے ہوئے چھوٹے حروف پڑھنے میں دقت کا سامنا ہوتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نئے ڈاکٹری نسخوں اور تصویری ہدیات سے مریضوں کو ہدایات سمجھنے میں آسانی ہوئی ہے

تو کیا تصویروں سے یہ مشکل حل ہو سکتی ہے؟

ڈاکٹر سمتھ کہتے ہیں کہ تصوریں مدگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف کم پڑھے لکھے مریضوں کا بھلا ہوگا بلکہ وہ مریض بھی اس سے استفادہ کر سکیں گے جن کا ذہن تیزی سے کام نہیں کرتا یا جنھیں بھول جانے کا مرض ہے۔

لاہور کے سروسز ہسپتال سے منسلک ڈاکٹر میتھیو کلیٹن اور ان کے ساتھیوں نے مریضوں کے لیے ایسے نئے نسخے اور پرچیاں بنائی ہیں جن پر الفاظ کی بجائے تصویریں بنائی گئی ہیں۔ دوا کے اوقات کے علاوہ اس پرچی پر ہر دوا کا ایک نمبر بھی درج ہوتا جو دوا کی بوتل یا گولیوں کے پیکٹ پر لکھے ہوئے نمبر کو ظاہر کرتا ہے۔ یوں مریض کو یاد رہتا ہے کہ اس نے کون سی دوا دن میں کتنی مرتبہ اور کتنے دنوں تک لینی ہے۔

ڈاکٹر میتھیو کلیٹن کی تحقیق برطانیہ کے طبی جریدے ’برٹش میڈیکل جرنل‘ میں شائع ہوئی ہے جس میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ تصویروں والی ہدایات کے استعمال سے ان پڑھ مریضوں کے دوا کے اوقات اور اس کی خوراک کو یاد رکھنے میں تقریباً 20 فیصد بہتری آئی ہے۔

اگرچہ پاکستان کے مقابلے میں برطانیہ میں شرح خواندگی بہت بہتر ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ برطانیہ میں بھی مریضوں کے ایسے گروپ موجود ہیں جنہیں ناخواندگی کے علاوہ دیگر مسائل کا سامنا ہے اور یہ طریقہ ایسے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

بی ایم جے سے منسلک سینیئر اہلکار ڈاکٹر مبشر بٹ کا کہنا ہے کہ ایسے مریض جو ٹھیک سے دیکھ نہیں سکتے، جنھیں نئی چیزیں سیکھنے میں دقت ہوتی ہے، یا وہ ذہنی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں اور ایسے مریض جنھیں دن میں کئ مختلف ادویات لینا پڑتی ہیں، تصویر والی پرچیاں ایسے تمام مریضوں کے لیے مددگار ہو سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’ہمیں چاہییے کہ ہم بوتل اور پیکٹ پر ہدایات کو سادہ اور واضح ترین الفاظ میں لکھیں‘

لیکن تمام ماہرین ڈاکٹر بٹ سے اتفاق نہیں کرتے۔ یونیورسٹی آف لیڈز سے منسلک پروفیسر تھیو رینر، جو مریضوں کو دی جانے والی ہدایات کے ماہر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ تصاویر بھی مریضوں کے لیے مخمصے کا باعت ہو سکتی ہیں اور تصویروں والی ہدایات کا نتیجہ بالکل الٹ بھی ہو سکتا ہے۔

’چونکہ برطانیہ میں زیادہ تر لوگ پڑھ سکتے ہیں، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بوتل اور پیکٹ پر ہدایات کو سادہ اور واضح ترین الفاظ میں لکھیں۔‘

اس سلسلے میں ڈاکٹر تھیو رینر ایک تصویری ہدایت کی مثال دیتے ہیں جس میں ایک بچے کی تصویر پر نفی کی علامت (یعنی کراس کا نشان) دکھایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب تھا کہ ’دوا بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں‘ لیکن کچھ مریضوں نے اس سے یہ مطلب نکالا کہ ’حمل کی صورت میں یہ دوا استعمال نہ کریں۔‘ نہ صرف یہ بلکہ کچھ مریض سمجھے کہ ’یہ دوا مانع حمل ہے‘ اور کچھ نے سمجھا کہ دوا صرف بڑوں کے لیے ہے اور ’بچوں کو یہ دوا نہ دیں۔‘

’لگتا ہے کہ تصویریں اس مسئلے کا بڑا سادہ سا حل ہیں، لیکن اصل میں تصویریں جہاں چند مسائل پر قابو پاتی ہیں وہیں یہ کئی بڑے مسائل کو جنم بھی دیتی ہیں۔‘

اس کا مطلب یہ ہوا کہ لاہور میں متعارف کرائے جانے والی تصویروں والی ہدایات سے ناخواندہ مریضوں کا مسئلہ شاید مکمل طور پر حل نہیں ہوگا اور ہمیں اس سلسلے میں مذید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں