یوکرین بحران: مشرقی علاقوں میں باغیوں کا ریفرینڈم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشرقی یوکرین کے دو علاقوں میں خودمختار حکومت کے لیے ریفرنڈم کرائے جا رہے ہیں

یوکرین میں روس نواز علیحدگی پسند ملک کے دو مشرقی علاقوں میں خود مختار حکومت کے لیے استصواب رائے عامہ یا ریفرینڈم کر رہے ہیں۔

علیحدگی پسندوں کے اس عمل کی کیئف اور مغربی دنیا میں مذمت جاری ہے۔

لوہانسک اور دونیتسک کے خود ساختہ رہنما روسی صدر ولادی میر پوتن کی جانب سے ریفرینڈم مؤخر کیے جانے کی درخواست کے باوجود اس کا انعقاد کر رہے ہیں۔

بدھ کو روسی صدر پوتن نے بات چیت کے لیے سازگار ماحول تیار کرنے کے لیے ریفرینڈم ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

دوسری جانب یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ریفرینڈم کے نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے اور علاقے میں ’انسدادِ دہشت گردی‘ کا آپریشن جاری رہے گا۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ ووٹنگ علاقے کے لیے ’خود ساختہ تباہی‘ ثابت ہوسکتی ہے۔

روس کے حامی علیحدگی پسندوں نے کئی مشرقی شہروں میں سرکاری دفاتر پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں وہ یوکرین کی فوج سے زبردست معرکہ آرائی میں مشغول ہیں۔

اطلاعات کے مطابق باغیوں کے قبضے والے شہر سلوویانسک کے نواحی علاقوں میں شدید لڑائی جاری ہے۔ یوکرین کی فوج نے شہر کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اسے وہ ’انسداد دہشت گردی آپریشن‘ کا نام دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ 25 مئی کو یوکرین کے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جمعے کے روز تصادم کے دوران دونیتسک کے علاقے میریپول کے بندرگاہ میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 39 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ ہفتے ریفرینڈم کرانے والوں نے کہا تھا کہ تمام تر پولنگ سٹیشن روس نواز کارکنوں کے کنٹرول میں ہیں اور اتوار کو پولنگ کے لیے تیار ملیں گے۔

اتوار کو منعقد ہونے والے ریفرینڈم کے لیے لاکھوں کی تعداد میں بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔

ان بیلٹ پیپرز پر ووٹرز سے ایک ہی سوال پوچھا گیا ہے کہ ’کیا آپ پیپلز رپبلک دونیتسک/لوہانسک کی خودمختاری کے اعلان کی حمایت کرتے ہیں؟‘

دونیتسک کے رہنما ڈینس پشلین کا کہنا ہے کہ ریفرینڈم کرانے کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔

ریفرینڈم کرانے والے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسی ماہ کے اواخر میں وہ ریفرینڈم کا دوسرا مرحلہ کرائیں گے جس میں روس سے الحاق کے بارے میں سوال ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جمعے کے روز تصادم کے دوران دونیتسک کے علاقے میریپول کے بندرگاہ میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں

انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ 25 مئی کو یوکرین میں ہونے والے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔

سنیچر کو یوکرین کے عبوری صدر اولیکزیندر ترچینوو نے تسلیم کیا کہ مشرقی یوکرین میں بہت سے لوگ روس نواز باغیوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے متنبہ کیا کہ ’ریفرینڈم تحت الثری کی جانب لے جانے والا قدم‘ ہوگا۔

انھوں نے کہا: ’جو لوگ خوداختیاری کے وکیل ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے معیشت بالکل بیٹھ جائے گی، سوشل پروگرام تباہ ہو جائے گا اور اس علاقے میں عوام کی زندگی مجموعی طور پر متاثر ہوگی۔‘

یورپی یونین اور امریکہ نے بھی ریفرینڈم کی مذمت کی ہے اور یوکرین میں خانہ جنگی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

اسی بارے میں