نائجیریا: حکومت نے رہائی کی پیشکش مسترد کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بوکو حرام کی جانب سے جاری ہونے والی ویڈیو میں لڑکیوں کو عبادت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے

نائجیریا کی حکومت نے شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی جانب سے اپنے شدت پسند ساتھیوں کی رہائی کے بدلے مغوی لڑکیوں کو رہا کرنے کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

پیر کو بوکوحرام نے ایک سو کے قریب مغوی لڑکیوں کی ویڈیو جاری کی ہے۔

نائجیریا کے وزیرِ داخلہ ابو مورو کے مطابق بوکوحرم نے لڑکیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور وہ اس طرح کی پیشکش کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد نائجیریا کے وزیرِ اطلاعات مائیک عومیری نے کہا تھا کہ تمام آپیشنز پر غور کیا جا رہا تاہم بعد میں وزیر داخلہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تبادلے کی پیشکش کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ معصوم شہریوں کے بدلے حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کی رہائی کی کوئی آپیشن زیرغور نہیں ہے۔

دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ نائجیریا میں موجود اس کے ماہرین ویڈیو کا باریک بینی سی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ لڑکیوں کو کس مقام پر رکھا گیا ہے۔

پیر کو ویڈیو میں بوکو حرام تنظیم کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ نے کہا ہے کہ لڑکیوں کو اس وقت تک حراست میں رکھا جائے گا جب تک ان کے ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جاتا۔ابوبکر شیکاؤ نے کہا کہ لڑکیوں کو مسلمان کیا جائےگا۔

بوکو حرام کی جانب سے جاری ہونے والی ویڈیو میں لڑکیوں کو عبادت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

گذشتہ ماہ اسلامی شدت پسند گروپ بوکو حرام نے 200 سے زیادہ طالبات کو اغوا کر لیا تھا جن میں سے بعض ان کے چنگل سے بھاگنے میں کامیاب رہی تھیں۔

اس سے قبل نائجیریا کے بورنو صوبے کے گورنر نے کہا تھا کہ انھیں مغوی لڑکیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

بورنو کے گورنر قاسم شٹیما نے کہا تھا کہ انھوں نے لڑکیوں کے دیکھے جانے کی معلومات فوج کو فراہم کر دی ہیں تاکہ ان کی تصدیق کی جا سکے۔

شٹیما نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں لڑکیوں کو سرحد پار دوسرے ممالک چاڈ یا کیمرون نہیں لے جایا گیا ہے۔

اس سے قبل فرانس کے صدر نے بوکوحرام کے بارے میں ایک کانفرنس کی میزبانی کی پیش کی تھی۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا: ’میں نے مشورہ دیا تھا کہ نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن اور نائجیریا کے پڑوسی ممالک کے ساتھ ایک اجلاس ہو۔ اگر تمام ممالک راضی ہوں تو آئندہ سنیچر کو یہ اجلاس منعقد کیا جا سکتا ہے۔‘

اس میں نائجیریا کے پڑوسی ممالک نائجر، چاڈ اور کیمرون کو سکیورٹی کانفرنس میں مدعو کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق اس میٹنگ میں امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کی شمولیت کے بھی قوی امکانات ہیں۔

امریکہ برطانیہ اور فرانس نے پہلے سے ہی نائجیریائی حکومت کو تکنیکی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

دریں اثنا صدر جوناتھن نے کہا ہے کہ ’انسداد دہشت گردی کی ایک اسرائیلی ٹیم طالبات کی تلاش میں تعاون کرنے کے لیے نائجیریا آنے والی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دارالحکومت ابوجا اور دیگر شہروں میں لڑکیوں کی بازیابی کے لیے مظاہرے جاری ہیں

یاد رہے کہ گذشتہ سال فرانسیسی فوج القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کو پسپا کرنے کے لیے مالی میں داخل ہوئی تھی۔

امریکہ اور برطانیہ دونوں نے اپنے فوجیوں کو شمالی نائجیریا کے وسیع علاقے میں روانہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے اتوار کو کہا کہ ’اس مرحلے پر امریکی فوجیوں کو وہاں اتارنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ یہ بعید از قیاس ہے کہ نائجیریا برطانوی فوج کی مدد طلب کرے گا۔ تاہم انھوں نے کہا: ’میں نے صدر جوناتھن سے کہا ہے کہ اگر کوئی مدد کر سکتا ہوں تو آپ مجھے ضرور بتائیں اور پھر ہم دیکھیں گے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘

بوکو حرام نائجیریا کے خلاف سنہ 2009 سے برسرپیکار ہے۔

اسی بارے میں