سابق اسرائیلی وزیراعظم کو بدعنوانی پر چھ برس قید

سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسرائیلی قانون کے مطابق ایہود اولمرت جیل کی سزا کاٹنے کے بعد سات سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے اہل نہیں ہوں گے۔

اسرائیل کی ایک عدالت نے ملک کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرت کو رشوت لینے کے جرم میں چھ سال قید اور ایک لاکھ اکہتر ہزار سٹرلنگ پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

جج نے سابق وزیراعظم کو حکم دیا ہے کہ وہ یکم ستمبر کو جیل میں حاضرہوں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ان کے وکیل کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی مہلت بھی دی ہے۔

وہ کسی بھی اسرائیلی حکومت کے پہلے سربراہ ہیں جنھیں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اڑسٹھ سالہ اولمرت کو رواں برس مارچ میں ایک تعمیراتی منصوبے میں رشوت لینے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

یہ منصوبہ یروشلم کے تل ابیب ڈسٹرکٹ میں ’ہولی لینڈ‘ کے نام اپارٹمنٹ بنانے کا تھا اور ایہود اولمرت پر، جو اس وقت یروشلم کے میئر تھے، الزام تھا کہ انھوں نے پانچ لاکھ شیکل یا 86 ہزار پاؤنڈ لے کر مقدس قرار دیے گئے زون میں قانون تبدیل کر کے متنازع اپارٹمنٹ تعمیر کرنے کی راہ ہموار کی۔

اسی منصوبے کی مد میں انھوں نے 60 ہزار شیکل مزید لیے تھے۔

اسی مقدمے میں دیگر دس افراد کو بھی سزائیں دی گئیں۔ ان لوگوں میں سرکاری اہلکار اور کچھ کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ ان میں سے چھ کو تین سے سات سال قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔

جج ڈیوڈ روزن نے فیصلے میں کہا ہے کہ رشوت ایک ایسا جرم ہے جو ’سارے پبلک شعبے کو آلودہ‘ کرتا اور حکومتی ڈھانچے کے انہدام کا سبب بنتا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ’جو لوگ رشوتیں لیتے ہیں وہ لوگوں میں تنفر اور سرکاری اداروں کے بارے میں بے اعتمادی اور مایوسی پیدا کرتے ہیں۔ راشی ایسے غدار ہوتے ہیں جو اُس اعتماد کو مجروح کرتے ہیں جو لوگ ان پر کرتے ہیں۔ جب کہ اس اعتماد کے بغیر سرکاری شعبے کو چلایا ہی نہیں جا سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یروشلم کے تل ابیب ڈسٹرکٹ میں ’ہولی لینڈ‘ کے نام اپارٹمنٹ بنانے کا منصوبہ جس میں رشوت لے کر قوانین تبدیل کر دیے گئے

جج کا کہنا تھا کہ ایہود اولمرت نے ملک کے لیے بڑی خدمات انجام دی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اس معاملے میں ’تہری اخلاقی گراوٹ‘ کے مرتکب ہوئے ہیں اور اسرائیلی قانون کے مطابق وہ سزا کاٹنے کے بعد سات سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے اہل نہیں ہوں گے۔

اطلاعات کے مطابق جب فیصلہ سنایا جا رہا تھا تو اولمرت تمام وقت سر جھکائے خاموش کھڑے رہے۔ تاہم ان کے وکیل نے فیصلے کے بعد حراست میں نہ لیے جانے کی درخواست دی جو منظور کر لی گئی۔

ایہود اولمرت کے وکیل نے فیصلے کے اعلان سے پہلے ہی کہا تھا ’آج ایک افسوسناک دن ہے کیوں کہ آج ایک معصوم آدمی کے خلاف ایک سنجیدہ اور غیر منصفانہ فیصلہ متوقع ہے۔‘

ایہود اولمرت 2006 سے 2009 تک اسرائیل کے وزیراعظم رہے۔ ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ان کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات کا ایسا طوفان اٹھا کہ انھیں مستعفی ہونا پڑا۔

ان پر یہ الزام بھی ہے کہ جب وہ صنعت و تجارت کے وزیر تھے تو انھوں نے ایسے اقدام کیے جن سے ان کے ساتھیوں کے موکلوں فوائد حاصل ہوئے۔

اسی بارے میں