یوکرین میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تازہ سفارتی کوششیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روس نے مشرقی یوکرین میں ہونے والے ریفرینڈموں کے نتائج پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے

یوکرین میں جاری بحران کے سفارتی حل کے لیے جرمنی کے وزیرِ خارجہ منگل کو یوکرین کے دارالحکومت کیئف پہنچ گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جرمن وزیرِ خارجہ فرینک والٹر شٹائن مائر مشرقی یوکرین بھی جائیں گے، جہاں روسی نواز علیحدگی پسندوں نے گذشتہ ہفتے ’خودمختاری‘ کے لیے دو ریفرینڈموں کا انعقاد کیا تھا۔

اس سے پہلے یوکرین کے روس نواز علیحدگی پسند رہنما ڈینس پشلن نے مطالبہ کیا تھا کہ اتوار کے روز ہونے والے ریفرینڈموں کے نتائج کی روشنی میں مشرقی یوکرین کو روس میں ضم ہونا چاہیے۔

دونیتسک سے تعلق رکھنے والےعلیحدگی پسند رہنما ڈینس پشلن نے کہا تھا کہ روس کو لوگوں کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔

کیئف، امریکہ اور یورپی یونین نے روس نواز علیحدگی پسندوں کی طرف سے لوہانسک اور دونیتسک میں کروائے جانے والے غیر سرکاری ریفرینڈموں کو غیر قانونی قرار دیا ہے، جبکہ روس نے ان ریفرینڈموں کے نتائج پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

جرمن وزیرِ خارجہ شٹائن مائر نے پیر کو برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کی۔ انھوں نے کہا کہ وہ یوکرین میں ہونے والے ریفرینڈموں کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔

انھوں نے ریفرینڈموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں انھیں سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔‘

جرمن وزیرِ خارجہ کے ترجمان مارٹن شیفر نے کہا کہ شٹائن مائر کے یوکرین کے دورے کا مقصد وہاں یورپ میں تعاون و سکیورٹی کی تنظیم (او ایس سی ای) کے زیرِ اہتمام ہونے والے قومی ’گول میز‘ مذاکرات کو تقویت دینا ہے۔

او ایس سی ای نے بعد میں ایک بیان میں کہا کہ روس کے صدر ولادی میر پوتن بھی یوکرین میں بحران پر قابو پانے کے لیے ان کے ’طریقۂ کار‘ کے حامی ہیں۔

جرمن وزیرِ خارجہ یوکرین میں بحران پر قابو پانے کی کوششوں میں مہینوں سے لگے ہوئے ہیں جبکہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ متعدد بار ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ’یوکرین کی خودمختاری کو پامال کرنے کے‘ الزامات کے تحت مزید 13 افراد اور دو کاروباری کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان میں روسی صدر کے ڈپٹی چیف آف سٹاف، سلوویانسک کے خود ساختہ میئر اور کرائمیا کی دو کمپنیاں شامل ہیں۔

یورپی یونین کی طرف سے اب 60 افراد کو سفری پابندیوں اور اثاثے منجمد ہونے کا سامنا ہے۔

جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین میں 25 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو ان کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گئی۔

پیر کو علیحدگی پسندوں نے دعویٰ کیا تھا کہ لوہانسک اور دونیتسک کے علاقوں میں ’خودمختاری کے حق‘ میں بالترتیت 89 اور 96 فیصد ووٹ پڑے۔

یوکرین نے ان ریفرینڈموں کو ’مجرمانہ ناٹک‘ قرار دیتے ہوئے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔

روس کے حامی علیحدگی پسندوں نے کئی مشرقی شہروں میں سرکاری دفاتر پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں وہ یوکرین کی فوج سے معرکہ آرائی میں مصروف ہیں۔

دونیتسک کے رہنما اور باغی لیڈر ڈینس پشلن نے ایک روسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ نتائج کے اعلان کے بعد علاقے میں موجود تمام یوکرینی فوجیوں کو قابض فوج سمجھا جائے گا۔

ریفرینڈم کرانے والے منتظمین کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے اواخر میں وہ ریفرینڈم کا دوسرا مرحلہ کرائیں گے جس میں روس سے الحاق کے بارے میں سوال ہوگا۔

انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ 25 مئی کو یوکرین میں ہونے والے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔

یورپی یونین اور امریکہ نے بھی ریفرینڈم کی مذمت کی ہے اور یوکرین میں خانہ جنگی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

اسی بارے میں