’کولمبس کا بحری جہاز سانتا مریا مل گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کولمبس کے بحری بیڑے میں سانتا مریا کے علاوہ لا نینا اور لا پنتا نامی دو اور جہاز بھی شامل تھے

زیرِ آب تحقیق کرنے والے ایک امریکی محقق نے خیال ظاہر کیا ہے کہ انھوں نے سانتا مریا نامی اس بحری جہاز کا ملبہ دریافت کر لیا ہے جسے کرسٹوفر کولمبس نے براعظم امریکہ کی دریافت کے لیے استعمال کیا تھا۔

بیری کلفرڈ کا کہنا ہے کہ ان کو ملنے والے شواہد سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہیٹی کے شمالی ساحل کے قریب موجود ملبہ سانتا مریا ہی کا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے اس بحری جہاز کے ملبے کی تصاویر لی ہیں اور اس کی پیمائش بھی کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ اس مقام کا زیادہ تفصیلی جائزہ لینے اور اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہیٹی کی حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

1492 میں کرسٹوفر کولمبس کے بحری بیڑے میں سانتا مریا کے علاوہ لا نینا اور لا پنتا نامی دو جہاز شامل تھے۔ کولمبس ایشیا جانے کو مغربی راستہ تلاش کرنے کی غرض سے نکلے تھے، لیکن ہیٹی پہنچ گئے۔

کولمبس کی سپین واپسی سے قبل ہی سانتا مریا غرقاب ہوگیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’تمام جغرافیائی، زیرِ زمین جغرافیائی مطالعات اور آثارِ قدیمہ سے ملنے والے ٹھوس شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ملبہ کولمبس کے مشہور جہاز سانتا مریا ہی کا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’مجھے یقین ہے کہ اس ملبے کی مکمل کھدائی کے بعد ہمیں پہلی بار سمندری آثارِ قدیمہ کی مدد سے کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے شواہد ملیں گے۔‘

بیری کلفرڈ کا کہنا ہے کہ انھوں نے سانتا مریا کے ممکنہ مقام کا کھوج آثارِ قدیمہ کے گذشتہ مطالعہ جات کی مدد سے لگایا ہے جن کے مطابق کرسٹوفر کولمبس کا ایک قلعہ تعمیر کیا گیا تھا اور بحری جہاز سانتا مریا اسی قلعے کے قریب ڈوبا تھا۔

انھوں نے کولمبس کی ڈائری میں درج شدہ معلومات سے بھی استفادہ کیا اور حال ہی غوطہ خوری کی مہم سے انھیں اس امکان پر یقین آنے لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption محققین نے کولمبس کی ڈائری کی معلومات سے بھی استفادہ کیا

انھوں نے امریکی چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس ملبے کے سانتا مریا ہونے کے امکان کا خیال اس وقت آیا جب انھیں اس مقام پر پندرہویں صدی کا ایک گولہ ملا۔

بیری کلفورڈ کے ہمراہ جانے والے سمندری آثارِ قدیمہ کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ وہاں پر ایسے شواہد ہیں جن کا اشارہ اسی جانب ہے، تاہم مکمل یقین دہانی کے لیے ملبے کی کھدائی لازمی ہے۔

اس منصوبے کی مزید تحقیق ہیٹی کی حکومت اور ڈسکوری چینل کی مدد سے کی جائے گی۔ ڈسکوری چینل اس کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بنانا چاہتا ہے۔

کلفورڈ کی وجہِ شہرت یہ ہے کہ انھوں نے وائیدا نامی پہلے بحری قزاق جہاز کا ملبہ دریافت کیا تھا۔

اسی بارے میں