برطانوی اخبار کے صحافیوں پر شام میں تشدد

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اینتھنی لوئڈ اور جیک ہل کو ایک گودام میں لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا

برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ کے ایک صحافی اور فوٹوگرافر کو شام میں بری طرح سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اینتھنی لوئڈ اور جیک ہل نامی دونوں صحافیوں کو شام میں ترکی کی سرحد کے نزدیک ایک باغی گروہ نے اغوا کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ دونوں صحافیوں کو اسلامک فرنٹ نامی باغیوں کی اتحادی تنظیم کی دخل اندازی کے بعد رہا کیا گیا۔

اینتھنی لوئڈ اور جیک ہل شام کے شمالی علاقے میں واقع شہر حلب میں موجود تھے، جہاں حکومتی جہازوں کی باغیوں پر بھاری بمباری کا سلسلہ جاری تھا۔

دونوں صحافیوں کو اس وقت روکا گیا جب ان کی گاڑی شہر سے واپسی پر ترکی کی سرحد کے نزدیک تھی۔ انھیں بعد ازاں ایک گودام میں لے جایا گیا اور وہاں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

برطانوی اخبار ’دی ٹائمز‘ کے مطابق اینتھنی لوئڈ کو ٹانگ میں دو بار گولیاں ماری گئیں اور دونوں صحافیوں کو مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔ دونوں ایوارڈ یافتہ صحافیوں نے اغوا کرنے والوں کو پہچان لیا اور بتایا کہ یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے ان کے لیے ترکی واپس جانے کے لیے محفوظ راستے کی نشاندہی کی تھی۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم موئر کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دونوں صحافیوں کو ان کے حفاظتی گروہ نے دھوکہ دیا۔

تین سال قبل حکومت اور باغیوں کے درمیان شروع ہونے والے اس تنازعے میں 60 سے زائد صحافی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس تنازعے میں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں افراد کو نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

واضح رہے کہ شام کے دوسرے شہر حمص سے باغیوں کا انخلا جاری ہے۔ بدھ کو تقریباً ایک ہزار باغی جنگجو اور ان کے رشتے دار بسوں کے ذریعے حمص سے انخلا کر گئے تھے۔

رواں برس کے شروع میں اقوامِ متحدہ اور ہلالِ احمر کی نگرانی میں ہونے والے ایک آپریشن میں 1,400 افراد کو پرانے شہر سے نکالا گیا تھا۔

اسی بارے میں