ترکی: سوما میں مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرین ملک میں کان کنی کے بدترین حادثے پر حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں

ترکی کے علاقے سوما میں کان کے حادثے میں 300 افراد کی ہلاکت کےخلاف ہزاروں مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مظاہرین حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی تیز بوچھاڑ کا استعمال کیا۔

احتجاجی مظاہرے کان کے آپریٹر کے اس بیان کے بعد شروع ہوئے جس میں کہا گیا کہ حادثے میں ان کی کوئی کوتاہی نہیں تھی۔

ترکی میں گذشتہ تین دن سے کان کے حادثے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ کان کے حادثے میں 300 ہلاکتوں کے علاوہ 122 افراد زخمی ہوئے ہیں اور اب بھی 18 کان کن لاپتہ ہیں۔

مظاہرے میں شامل ایک خاتون نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے’ہم نے یہاں کچھ غلط نہیں کیا ہے، وہ ہمیں اپنا غم منانے بھی نہیں دیتے ہیں۔‘

اس سے پہلے کان کے آپریٹر کا کہنا ہے کہ حادثے میں ان کی کوئی کوتاہی نہیں تھی۔

سوما ہولڈنگ نامی کمپنی کے ترجمان نے ایک اخباری کانفرنس میں حادثے کے بعد کمپنی کے ردعمل کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کمپنی کی واحد ترجیح لوگوں کی جانیں بچانا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سوما میں ہلاک شدگان کے لواحقین غم سے نڈھال ہیں

انھوں نے کہا کہ حادثہ کان میں حرارت کے اضافے کی وجہ سے ہوا، جس کی ابھی تک کوئی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔

یاد رہے کہ حادثے کے پیشِ نظر مزدور یونینوں نے جمعرات کو ہڑتال کی تھی۔

یہ حادثہ منگل کو ملک کے مغربی علاقے سوما میں واقع کوئلے کی کان میں پیش آیا تھا جہاں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی۔

مزدور یونینوں کے ارکان کا کہنا ہے کہ کان کنی کے شعبے کی حالیہ نجکاری نے حالاتِ کار کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔

ترکی میں اس حادثے پر تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے اور ملک کے صدر عبداللہ گل نے بھی سوما میں واقع جائے حادثہ کا دورہ کیا ہے جہاں انھیں مشتعل مظاہرین کی نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا۔

بدھ کو وزیراعظم رجب طیب اردگان کو بھی اسی قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس واقعے پر ملک کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے ہوئے ہیں۔

بی بی سی کی ترک سروس کے مطابق ہڑتال کے موقعے پر تین ہزار کے قریب مظاہرین دارالحکومت انقرہ میں جمع ہوئے، جبکہ ملک کے 13 دیگر شہروں میں بھی اسی قسم کے مظاہرے ہوئے۔

اس ہڑتال میں کئی یونینز نے حصہ لیا اور مظاہرین سے کہا گیا ہے کہ وہ سیاہ لباس پہنیں اور وزارتِ محنت کے دفتر کی جانب مارچ کریں۔

پبلک ورکرز یونینز کنفیڈریشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’وہ جو نجکاری کی پالیسیوں پر عمل کر رہے ہیں، جو اخراجات میں کمی کے لیے کارکنوں کی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں، وہ سوما کے قتلِ عام کے ذمہ دار ہیں اور ان سے اس کا حساب لیا جانا چاہیے۔‘

اس واقعے کے خلاف بدھ کو بھی ترک دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں احتجاج ہوا تھا جس دوران مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔

مظاہرین ملک میں کان کنی کے بدترین حادثے پر حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بدھ کی شب کان سے مزید آٹھ لاشیں نکالی گئیں

اس سے پہلے ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے سوما کے دورے کے موقعے پر لوگوں کے ساتھ اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کاموں کے لیے تمام دستیاب وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ترکی کے وزیرِ توانائی تانر یلدیز نے کان میں بجلی کی ترسیل کے نظام میں خرابی کو حادثے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ حادثے کے وقت کان میں 780 سے زیادہ کان کن موجود تھے۔

انھوں نے کہا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں کان میں نصب لفٹیں اور تازہ ہوا پہنچانے کا نظام بند ہو گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیشتر صنعتی ممالک کے مقابلے میں ترکی میں کوئلے کی کانوں کا حفاظتی ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں۔

ترکی میں اس سے پہلے کان کنی کا بدترین حادثہ 1992 میں پیش آیا تھا جب بحیرۂ اسود کے قریب واقع ایک کان میں حادثے سے 263 کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں