بوسنیا اور سربیا میں سیلاب، دو درجن سے زائد افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سربیا کے پولیس چیف کا کہنا تھا کہ سیلابی پانی کسی سونامی کی طرح آیا یہ تین سے چار میٹر بلند تھا

جزیرہ نما بلقان کے ممالک بوسنیا اور سربیا میں ایک صدی کے بعد آنے والے شدید ترین سیلاب میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے نقل مکانی کر گئے ہیں۔

علاقے میں مہینوں میں ہونے والی بارش چند دنوں میں برس جانے سے دریاؤں میں طغیانی آگئی ہے اور پانی کناروں سے باہر آگیا ہے۔ بارشوں کے باعث ہونے والے لینڈ سلائیڈز سے کئی گھر دب گئے ہیں۔

بوسنیا کے ایک قصبے دوبوج میں کم سے کم 20 لاشیں ملی ہیں۔ سربیا میں دارالحکومت بلغراد کے نواحی علاقے سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

دوبوج کے میئر نے بتایا ہے کہ ’20 سے زائد لاشیں اب تک مردہ خانے لائی جا چکی ہیں۔‘

سربیا کے پولیس چیف کا کہنا تھا کہ بالخصوص دونوج میں صورتحال کافی مشکل ہے ’کیونکہ سیلابی پانی کسی سونامی کی طرح آیا یہ تین سے چار میٹر بلند تھا کوئی اس سے بچ نہیں پایا۔‘

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فضائی جائزے میں دیکھا گیا ہے کہ بوسینیا کا ایک تہائی حصہ بالخصوص شمالی مشرقی علاقے ایک کیچڑ سے بھری جھیل کی طرح محسوس ہو رہے ہیں۔ گھر، سڑکیں اور ریلوے لائنز پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

بوسنیا کی سلامتی کی وزرات کے ترجمان کے مطابق تقریباً دس لاکھ افراد یعنی ملک کی آبادی کا ایک تہائی انہی متاثرہ علاقوں میں مقیم تھے۔

بوسینیا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے بییلینیا میں امدادری کارکن 10000 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دریائے ساوا میں اتوار کی شام ایک اور سیلابی ریلہ گزرنے کا امکان ہے۔

حکام نے بلغراد کے ایک قریبی قصبے بارک کو بھی خالی کروانے کی ہدایات دے دی ہیں۔ امدادی کارکنوں پھنسے ہوئے ہزاروں مقامی افراد کو نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اسی بارے میں