چین نے ویتنام سے3000 باشندے واپس بلا لیے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ دنوں میں جنوبی کوریا اور چین سمیت 15 غیر ملکیفیکٹریوں پر حملے کیے گئے

چین کی حکومت نے ویتنام سے اپنے 3000 سے زائد باشندوں کو وہاں سے نکال لیا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق ایسا ویتنام میں چین مخالف پر تشدد مظاہروں کے بعد کیا گیا ہے۔

سرکاری خبررساں ادارے ژن ہوا کا کہنا ہے کہ بیجنگ حکومت اپنے شہریوں کی مدد کے لیے چارٹرڈ ہوائی جہاز اور بحری جہازوں کا بندوبست کر رہی ہے۔

حال ہی میں ویتنام کے پانیوں میں چین کی جانب سے متنازعہ تیل کی تلاش کی کوشش کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں دو چینی باشندوں کو قتل جبکہ 100 سے زائد کو زخمی کر دیا گیا۔

سنیچر کو ویتنام کی حکومت نے بھی لوگوں سے مظاہرے ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جائے گا کیونکہ ان کی وجہ سے ملکی استحکام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ تاہم باغیوں نے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اتوار کو بڑے شہروں میں ریلیاں نکالیں۔

حالیہ دنوں میں جنوبی کوریا اور چین سمیت 15 غیر ملکی فیکٹریوں پر حملے کیے گئے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملے حکام کے لیے پریشان کن ہیں کیونکہ ہینوئی کی معاشی ترقی کا زیادہ تر انحصار غیر ملکی سرمایہ کاری پر ہے۔

تاہم چین نے ویتنام کے حکام سے مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا مظاہرہ کیا ہے۔

ژن ہوا کے مطابق چین کے سکیورٹی چیف کا کہنا تھا ’ہم ویتنام کے حکام کی جانب سے معاملے پر قابو نہ پانے کی وجہ سے انتہائی غیر مطمئن ہیں۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ویتنام کے بڑے شہر ہو چی منہ میں ایک سال سے زیادہ عرصے میں یہ پہلا چین مخالف مظاہرہ تھا۔

ویتنام میں عوامی مظاہرے بہت کم ہی ہوتے ہیں کیونکہ حکومت سیاسی اور سماجی استحکام پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔

اسی بارے میں