برطانیہ کے امیر ترین اشخاص میں ہندوجا برادران سر فہرست

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption امیر ترین شخصیات کی فہرست میں شامل ہزار لوگوں کی مجموعی دولت پانچ کھرب 20 ارب پاؤنڈ رہی جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے 15 فی صد زیادہ ہے

معروف اخبار سنڈے ٹائمز کی جاری کردہ برطانیہ کی امیر ترین شخصیات کی فہرست میں انتہائی مالدار تاجر خاندان ہندوجا برادران سرفہرست ہیں۔

ان کی مشترکہ دولت کا تخمینہ 11.9 ارب پاؤنڈ بتایا گیا ہے اور وہ پہلی بار اس فہرست میں اول آئے ہیں۔

ہندوجا برادران سری چند اور گوپی چند ہندوجا کی دلچسپیاں صنعت اور فنانس میں ہے اور انھوں نے ٹائمز کی سالانہ فہرست میں آرسنل ایف سی کے شیئر ہولڈر علی شیر عثمانوو کی جگہ لی ہے۔

اس میں شامل ہزار لوگوں کی مجموعی دولت پانچ کھرب بیس ارب پاؤنڈ رہی جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے 15 فی صد زیادہ ہے۔

فہرست میں شامل نئے لوگوں میں گرانڈ تھیفٹ آٹو اور کمپیوٹر گیم کینڈی کرش ساگا کے بنانے والے افراد بھی ہیں۔

سیم اور ڈین ہاؤزر جنھوں نے گرانڈ تھیفٹ آٹو بنائی تھی دونوں کی مشترکہ دولت نو کروڑ پاؤنڈ بتائی گئی ہے اور وہ اس فہرست میں 947 ویں مقام پر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ g
Image caption ڈیوڈ اور وکٹوریہ بیکھم کی دولت 21 کروڑ پاؤنڈ بتائی گئی ہے

اس فہرست میں ایک اور نیا نام ٹیسکو کے مالک سر ٹیری لیہی کا ہے۔ ان کی دولت 10 کروڑ بتائی گئی ہے جبکہ وہ 863 ویں نمبر پر ہیں۔

اس فہرست میں پہلی بار شامل ہونے والوں میں سرفہرست کیری اور فرینکوا پیرودو اور ان کا کنبہ ہے۔ یہ لندن میں مبنی پرینکو تیل اور گیس آپریشن کے مالک ہیں۔ ان کی مشترکہ دولت چھ ارب بتائی گئی ہے جبکہ وہ مجموعی طور پر چودھویں نمبر پر ہیں۔

آن لائن میں تیزی آنے کے بعد کئی نئے نام اس فہرست میں شامل ہوئے ہیں جن میں بوہو ڈاٹ کوم کے محمود کمانی ہیں جن کی دولت 30 کروڑ بتائی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption یہ دونوں میاں بیوی ٹی کے علاوہ کئی طرح کی تجارت میں شامل ہیں

ڈیوڈ اور وکٹوریہ بیکھم کی دولت 21 کروڑ پاؤنڈ بتائی گئی ہے۔

ٹی وی پروگرام ایکس فیکٹر کے سربراہ سائمن کوویل کی دولت کا تخمینہ 30 کروڑ لگایا گیا ہے۔

معروف شیف جیمی اولیور اور ان کی اہلیہ جولز کی دولت نو کروڑ سے بڑھ کر 24 کروڑ پہنچ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ایکس فیکٹر کے سربراہ سائمن کوویل کی دولت کا تخمینہ 30 کروڑ لگایا گیا ہے

جیمی اور جولز اولیور کی دولت میں اضافے کا سبب ریستوراں کے سلسلے، ٹی پر شو اور بچوں کے ملبوسات بتائے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ ملکہ برطانیہ سنہ 1989 میں پہلی بار اس فہرست میں سر فہرست رہی تھیں اس وقت سے وہ آج تک اس فہرست میں شامل ہیں اور اس بار وہ 285 ویں نمبر پر ہیں اور ان کی دولت 33 کروڑ بتائی گئی ہے۔

اسی بارے میں