لیبیا کی حکومت کا ملک پر کنٹرول قائم رکھنے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ واضح نہیں کہ اتوار کو ہونے والے حملے کے بعد آیا پارلیمان مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہے یا نہیں

لیبیا کی حکومت کا اصرار ہے کہ اختتامِ ہفتہ پر ہونے والے شدید حملوں اور جھڑپوں کے باوجود اسے ملک پر کنٹرول حاصل ہے۔

اتوار کو ایک ملیشیا نے ملک کی پارلیمان پر حملے کے بعد حکومت سے کام روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تمام اختیارات اس کے حوالے کر دے اور وہ ملک کے لیے نیا آئین تشکیل دے گی۔

اس حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ متعدد کو یرغمال بنایاگیا تھا۔

لبیا کے وزیرِ انصاف اصلاح المرغانی نے ٹیلی ویژن پر براہِ راست ایک بیان میں اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے تشدد ختم کرنے اور قومی سطح پر بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت اب بھی کام کر رہی ہے۔

پیر کو علی الصبح بن غازی میں ایک ہوائی اڈے پر حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بن غازی میں جمعے کو مشتبہ شدت پسندوں اور ملیشیا کے درمیان شدید لڑائی ہوئی تھی۔

ریٹائرڈ کرنل خلیفہ حفتر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی اتحادی ملیشیا کی مدد سے اتوار کو ملک کی پارلیمان پر ہونے والے شدید حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جس کا مقصد لیبیا کو شدت پسندوں سے پاک کرنا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں کہ کرنل خلیفہ حفتر کے حامیوں کو سرکاری فوج کے اندر سے اور باغیوں کے دوسرے گروپوں کی کس حد تک حمایت حاصل ہے۔

یہ بھی واضح نہیں کہ اتوار کو ہونے والے حملے کے بعد آیا پارلیمان مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہے یا نہیں۔

لیبیا میں بعض جنگجو دھڑے اسلام پسندوں کی بڑھتی ہوئی طاقت سے ناخوش ہیں اور ان کے اثر میں کمی چاہتے ہیں۔

لیبیا میں تین سال قبل معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔ سابق حکمران کرنل قذافی کے وفادار خلیفہ حفتر نے ہی جمعے کو بن غازی شہر میں اسلامی شدت پسندوں پر ہونے والے فضائی اور زمینی حملے کی قیادت کی تھی۔

اس حملے میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکومت نے اس واقعے کی مذمت کی تھی اور بن غازی شہر کو نو فلائی زون قرار دے دیا تھا۔

اسی بارے میں