تھائی لینڈ میں مارشل لا، فوج نے کنٹرول سنبھال لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فوج نے اہم تنصیابات پر قبضہ کر لیا ہے

تھائی لینڈ میں فوج نے کہا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی بحران کی وجہ سے مارشل لگا رہی ہے۔

اس حیران کن اعلان سے فوج کو اپنے احکامات نافذ کرنے کے لیے وسیع اختیارات بھی حاصل ہو گئے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ ملک کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کو بغاوت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ملک میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک عرصے سے جاری کشمکش اور سیاسی بحران کے بعد فوج نے مارشل لاء نافذ کیا ہے۔

ملک کے عبوری وزیر اعظم کے چیف سیکیورٹی ایڈوائزر کا کہنا ہے کہ فوج کے فیصلے کے بارے میں حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ مارشل کے نفاذ سے نگران حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ اقتدار میں رہے گی۔

بنکاک میں موجود بی بی سی کے نمائندے جوناتھن ہیڈ نے کہا ہے کہ فوج کی کارروائی جو فوج کے بقول ان بدنیت عناصر کو روکنے کے لیے کی گئی ہے جو جنگی ہتھیار استعمال کرنے چاہتے تھے سب کے لیے حیران کن ہے۔

ہمارے نامہ نگار کہ کہنا ہے فوج کے اعلان کے مطابق فوج نے سیکیورٹی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور اب بنکاک کی سڑکوں پر فوجی کثرت سے نظر آئیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی جماعتیں ملک میں جلسے جلوس کر رہی تھیں

تھائی لینڈ میں اس سے قبل سنہ دو ہزار چھ میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

تھائی لینڈ کے سرکاری ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے ایک اعلان میں کہا گیا ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا ہے تاکہ امن و اماں برقرار رکھا جاسکے۔

اعلان میں کہا گیا کہ عوام کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وہ اپنی زندگیاں معمول کے مطابق گذار سکتے ہیں۔

تھائی لینڈ ایک عرصے سے سیاسی بحران کا شکار ہے اور حزب اختلاف کی جماعتیں اقتدار ایک غیر منتخب انتظامیہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ وہ ملک کا آئین ازسرنو مربت کر سکے۔

فوج کا بیان فوج کے سربراہ پریوتھ چان اوچا کے دستخطوں سے جاری ہوا ہے جس میں سنہ 1914 کے ایک قانون کا حوالے دیا گیا ہے جس کی روح سے فوج کو بحران میں مداخلت کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی اس لیے عمل میں لائی گئی کیونکہ ملک میں متحرب سیاسی دھڑوں کے بڑے بڑے سیاسی جلسوں اور اجتماعات سے عوام کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور ملک کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

گذشہ سوموار کو وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت حزب اختلاف کے دباؤ میں آ کر استعفی نہیں دے گی۔

ملک گذشتہ سال دسمبر سے سیاسی بحران کا شکار ہے اور اس دوران ملک میں بجٹ کی منظوری بھی نہیں دی جا سکی ہے۔

اسی بارے میں